Wednesday, November 26, 2014

جو بڑھ کر خود اُٹھا لے....محمد بلال غوری

مغربی یورپ کی حکومتوں نے عیسائیت کے مقامات مقدسہ کو مسلمانوں سے آزاد کرانے کیلئے 1096ء سے 1291ء تک جو تگ و تاز کی اسے ہم صلیبی جنگوں کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ان جنگوں سے متعلق جو بیشمار کتابیں لکھی گئیں ان میں سے ایک اہم کتاب Memoirs of the crusader ہے جو شاہ فرانس لوئی نہم کے ہمراہ یورش کرنے والے ایک صلیبی جانباز ژے آن دوژوان ویل نے لکھی اور آج بھی اس کا حقیقی نسخہ ایوری مینس لائبریری میں موجود ہے۔ لوئی نہم تیونس میں اپنی فوج کے ہمراہ مارا گیا اور پوپ نے اسے سینٹ یا ولی کا خطاب دیا۔ ژوان ویل نے اپنی ان یادادشتوں میں نہ صرف صلیبی جنگوں کے دوران پیش آنے والے واقعات بیان کئے ہیں بلکہ اس وقت یورپ کے فکری انحطاط کا نقشہ بھی کھینچا ہے۔

یہ وہ دور تھا جب لندن اور پیرس کیچڑ میں لتھڑے رہتے تھے مگر مسلمان طلیطلہ اور اشبیلیہ جیسے شہر آباد کر رہے تھے۔ یورپی باشندے مجنونانہ جوش و جذبے کے علمبردار تھے جبکہ مسلمان عقل و خرد اور علم و فن کے ہتھیاروں سے برسرپیکار تھے۔ بے تیغ یورپ دعائوں کے سہارے لڑ رہا تھا تو مسلمان دعا سے پہلے دوا کے فلسفے پر یقین رکھتے تھے اور یورپ معجزوں کا منتظر تھا مگر مادی وسائل سے لیس مسلمان خود تقدیر یزداں کا روپ دھارے ہوئے تھے۔ اپنی اس سرگزشت میں ژواین ویل ایک معرکے کا حال بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ایک رات جب ہم دریا پر بنائے گئے رسوں اور لکڑی کے پلوں پر پہرہ دے رہے تھے تو اچانک مسلمانوں نے منجینق نما ایک مشین لا کر کھڑی کردی اور اس سے ہم پر آگ برسانے لگے۔ ہمارا لارڈ والٹر جو ایک بہادر نائٹ تھا ،اس نے ہمیں مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’یہ ہماری زندگی کا سب سے کٹھن مرحلہ ہے۔

اگر ہم نے اپنی جگہ نہ چھوڑی تو جل کر خاک ہوجائیں گے۔ چونکہ ہم اس جگہ کی حفاظت پر مامور کئے گئے ہیں اس لئے یہاں سے پیچھے ہٹنا بھی رسوائی ہو گی۔اس وقت ہمیں خدا ہی بچا سکتا ہے۔لہٰذا میری آپ سب کو نصیحت ہے کہ جو نہی مسلمان اس مشین سے آگ کے گولے پھینکیں،ہم سب گھٹنوں کے بل جھک جائیں اور اپنے خدا کو نجات دہندہ سمجھ کر مدد کے لئے پکاریں۔ 

فرانسیسی مصنف جو خود اس فوج میں شامل تھا ،وہ لکھتا ہے کہ ہم سب نے ایسے ہی کیا۔ جب آگ کا گولہ پھینکا جاتا تو اس کی لمبی دُم کسی نیزے کی مانند محافظوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔ہر بار جب حملہ ہوتا تو ہم آنکھیں بند کرلیتے اور گڑ گڑا کر خدا کو یاد کرنے لگتے۔ لیکن جب بہت سے فوجی مارے گئے تو باقی سب نے جان بچانے کے لئے دوڑ لگا دی۔

حالات نے چند سو سال بعد ہی ایسی کروٹ بدلی کہ ہمارے اوصاف حمیدہ تو یورپ نے مستعار لے لئے مگر ہم یورپ کی پرانی ڈگر پر آ گئے۔ وہ جو اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کے قائل تھے ،فلسفہ قضاء کی جانب مائل ہو گئے۔ جنہوں نے تدبیر سے پوری دنیا فتح کی ،وہ تقدیر کی دہلیز پر سجدہ ریز ہو گئے ۔شمشیر پر بھروسہ کرنے والے محض نعرہ تکبیر پر اکتفا کرنے لگے تو فاتحین نے انہیں نشان عبرت بنا دیا۔ شیخ عبدالرحمٰن الجبرتی معروف تاریخ دان ہیں جو اٹھارویں صدی کے دوران قاہرہ میں پیدا ہوئے۔ ان کی شہرہ آفاق کتاب ’’عجائب الاثار فی التراجم والاخبار‘‘میں چشم دید گواہ کی حیثیت سے ایسے بہت سے واقعات درج ہیں جو اس دور میں مسلمانوں کے فکری انحطاط کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اٹھارویں صدی میں جب نپولین بونا پارٹ نے مصر پر دھاوا بول دیا تو مسلم حکمراں مُراد بک نے جامعہ الازہر کے علماء کو جمع کر کے ان سے مشورہ کیا کہ اس حملے سے بچنے کے لئے کیا تدبیر اختیار کی جائے۔

اس دور کے جید علماء نے یہ نسخہ تجویز کیا کہ جامعہ الازہر میں بخاری شریف کاختم شروع کرا دیتے ہیں۔چنانچہ اس مشورے پر عملدرآمد کا حکم صادر کر دیا گیا۔ابھی یہ عمل ختم بھی نہ ہوا تھا کہ نپولین کی افواج نے کشتوں کے پشتے لگا دیئے۔ انیسویں صدی کے آغاز میں جب روسیوں نے لشکر کشی کرتے ہوئے بخارا کا محاصرہ کر لیا تو امیر بخارا نے اپنے جنگی کمانڈروں سے مل کر لڑنے کی حکمت عملی طے کرنے کے بجائے حکم جاری کر دیا کہ تمام مساجد و مدارس میں ختم خواجگان پڑھا جائے۔ایک طرف روسی افواج توپوں سے گولہ باری کرتے ہوئے شہر کی فصیل میں شگاف ڈال رہی تھیں تو دوسری طرف بخارا کے لوگ مسجدوں میں بیٹھے ذکر و اذکار کر رہے تھےتو اب بے عمل مسلمانوں کے لئے تائید و نصرت کیسے اترتی۔

اسی نوعیت کا ایک واقعہ محمد ہیکل نے اپنی کتاب ’’آیت اللہ کی واپسی ‘‘ میں نقل کیا ہے ۔پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانوی افواج عراق میں داخل ہو گئیں تو ہر قسم کے مظاہروں ،جلسوں اور جلوسوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ایک دن برطانوی جنرل آفیسر کمانڈنگ کو رپورٹ ملی کہ مسلمان ایک مسجد میں جمع ہیں اور اس کے میناروں سے شور بلند ہو رہا ہے۔اس جے او سی نے کمال بے نیازی سے کہا’’اگر وہ مسجدوں میں ہی رہتے ہیں اور اس کے میناروں سے آہ و بکا کرتے ہیں تو بیشک قیامت تک کرتے رہیں ،مجھے اس کی پرواء نہیں‘‘سچ تو یہ ہے کہ دعائیں بھی ان کی قبول ہوتی ہیں جو سب حجتیں ،سب اسباب فراہم کرنے کے بعد آسمان کی طرف نگاہ اُٹھاتے ہیں۔ہمارے ہاں جب بھی بڑے بڑے مذہبی اجتماعات ہوتے ہیں تو جھولیاں پھیلا کر رقت آمیز انداز میں دعائیں کی جاتی ہیں ،اے اللہ! کفار کی توپوں میں کیڑے ڈال دے،اسلام کے دشمنوں کو نیست و نابود کر دے،انکی سازشیں ناکام بنا دے۔

اس سے ملتی جلتی دعائیں نماز جمعہ کے اجتماعات میں بھی کی جاتی ہیں۔ جب میں مسلمانوں کو مسیحیوں کی مانند اللہ کا انتظار کرتے دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کیا عروج تھا،کیا پستی ہے۔آج ہمارے ہاں تساہل اور کم ہمتی کا یہ عالم ہے کہ آپ کسی عام آدمی سے بات کر کے دیکھ لیں ،وہ ہاتھ اوپر اٹھا کر کہے گا،اس ملک اور معاشرے کو تو اب اللہ ہی ٹھیک کر سکتا ہے۔کسی قوم کے ذہنی و فکری انحطاط کی سب سے بڑی علامت یہی ہے کہ وہ خود اپنی حالت بدلنے کے بجائے کسی مسیحا یا کسی نجات دہندہ کا انتظار کرتی رہے۔مگر میرے رب کے قوانین اٹل اور غیر متبدل ہیں۔وہ اسے نوازتا ہے جس میں پانے کی جستجو ہو،وہ اسے عطاء کرتا ہے جو متلاشی ہوتا ہے،وہ اس کی مدد کو آتا ہے جو تقدیر سے پہلے تدبیر اور دعا سے قبل دو ا کا اہتمام کرتا ہے۔شاد عظیم آبادی نے کیا خوب کہا ہے 

یہ بزم مئے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے

محمد بلال غوری

Tuesday, November 25, 2014

بنگلہ دیش: ماضی اور حال....


میں جب بھی بنگلہ دیش جاتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ کوئی نہ کوئی ادارہ پستی کا شکار ہوا ہے۔ پچھلی بار پارلیمنٹ تھی۔ اس بار ایک معروف وکیل کے الفاظ میں عدلیہ کمزور ہوئی ہے۔

پھر بھی جو بات پریشان کن ہے وہ یہ ہے کہ دور بیٹھی استحصالی حکومت کے خلاف عوامی بغاوت سے وجوہ میں آنے والا ملک سابقہ حالت والا ملک بن گیا ہے۔ سچ یہ ہے کہ آج بھی بنگلہ دیش فوج کے سائے میں جی رہا ہے۔ روز مرہ معاملات میں اسکا کوئی دخل نہیں ہے۔ بلکہ بقول ایک ممتاز فوجی افسر، ’’ہم نے ایک بار حکومت کی لیکن ہم نے دیکھا کہ معاشرہ منضبط فوجی اقتدار پر الجھن میں گرفتار عوام کی حکومت کو ترجیح دیتا ہے۔‘‘

آج بھی مسئلہ ذرا مختلف شکل میں وہی ہے۔ وزیر اعظم شیخ حسینہ اقتدار کو اپنے آپ میں مرتکز کر رہی ہیں اور کلیدی منصوبوں پر ایسے افراد کو فائز کر رہی ہیں جو انکے وفادار ہوں۔ انہوں نے بذات خود قانون کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ اگرچہ یہ بات عوام کے مزاج کے خلاف ہے جو اپنی سرکشی خود مختاری کے لیے معروف ہیں۔ وزیر اعظم حسینہ کے ہاتھوں میں پارلیمنٹ کی باگ دوڑ ہے۔ بغیر سوچے سمجھے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے انتخابات کا بائیکاٹ کر کے عوامی لیگ کے لیے جسکی قائد حسینہ ہیں۔ میدان کھلا چھوڑ دیا۔ ایک ووٹ بھی پڑنے سے پہلے انہوں نے ساٹھ فیصد سے زیادہ تشستیں جیت لیں۔ سمجھا گیا کہ ا سملک میں انتخابات کے ناٹک کے ازالے کے لیے ازسرنو انتخابات کرائے جائیں گے۔ اسکے بجائے انہیں ایسا ایوان ملا جس میں انکی پسند کی کوئی مخالفت نہیں ہوئی۔ یہاں تک کہ بے چہرہ ممبران پارلیمنٹ بھی یہ سمجھنے لگے ہیں کہ انکی مقبولیت کی وجہ سے انکا انتخاب ممبران کی حیثیت سے ہوا ہے۔

یہ بہت خراب بات ہے اور اس سے خراب تر بات برسراقتدار پارٹی میں اس سوچ کا پنپنا ہے کہ انتخاب بے کیف ، باعث زحمت اور غیر یقینی ہیں۔ عوام کی رائے کے تعین کے لیے کوئی اور طریوہ کار وضح کیا جانا چاہیے۔ مجھے ڈر ہے کہ بے تحاشہ اختیارات حاصل ہوجانے کے بعد مخالفت بیزار حسینہ انتخابات کو ختم کرنے پر غور کر سکتی ہیں۔ عوام سڑکوں پر اتر کر اسکی مزاحمت شاید کریں لیکن ضدی، جابرانہ انتظامیہ ایسی صورت حال پر قابو پا سکتا ہے جیسا کہ اس نے ماضی میں کیا ہے۔

ان حالات میں عدلیہ کی خود مختاری لازمی ہے۔ تاہم تقریبا بیس سال تک عدالتوں سے متعلق خبروں کا احاطہ کرنے والے ایک بنگلہ دیشی صحافی نے مجھے بتایا کہ بدعنوانی کی دیمک عدلیہ کے ہر گوشے کو چاٹ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ فیصلے بکتے ہیں۔‘‘ اور یہ کہ ججوں کے بیٹے انہی عدالتوں میں پریکٹس کرتے ہیں جہاں انکا باپ یا چچا بخچ پر ہوتے ہیں۔ اس سے صورتحال سنگین تر ہی ہوئی ہے۔

وزیر اعظم نے ججوں کی تقرری کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔ بنگلہ دیش کا آئین کہتا ہے کہ صدر جمہوریہ وزیر اعظم کے مشورے سے ججوں کا تقرر کرے گا۔ انہوں نے لفظ مشورہ کو وسعت در کر اسے اتفاق رائے کے ہم معنی قرار دے دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ برسراقتدار عوامی لیگ کی وفاداری کا دم بھرنے والے ان وکیلوں کو بھی جج بنا دیا گیا ہے جن کے پاس مقدمے نہیں ہیں۔

فیصلوں کو مبینہ طور پر توڑا مروڑا جاتا ہے۔ ان تقرریوں پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا ہے کیونکہ ایسا کرنے والے کو دشمن کا حامی ٹھہرایا جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بی این پی عوام کے ہجوم کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ پارٹی لیڈران کی بات سسنے کے لیے آنے والے لوگ اکے معتقد بھی ہوں۔ حکمرانوں کی تنقید عوام کے نزدیک خوشگوار امر ہے۔ وہ مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں اور روز افزوں افراط زر کا بوجھ اٹھائے ہوئے دن کاٹ رہے ہیں۔

درحقیقت واحد وفادار حامی جماعت اسلامی کے حلقہ بگوش افراد ہیں۔ انکی بنیاد پرستی کی اب بھی قیمت ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں کچھ پاکستان نواز ہیں۔ ایک معتبر خبر کے مطابق ان کی تعداد تقریبا بیس فیصد ہے۔ اس پر کسی کو تردد نہیں ہو گا کہ عوام لیکب کے ٹھوس حامی اس سے بھی زیادہ یعنی 30 سے 35 فیصد تک ہو سکتے ہیں۔

  افسوس کہ مجھے ان دنوں جیسی اصول پرستی اور آدرش کا مظاہرہ دیکھنے کو نہیں ملا جب بنگلہ دیشی عوام آزادی کی لڑائی میں مصروف تھے۔ لوگ اسے اپنے لیے بہترین ساعت تصور کرتے ہیں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ تحریک آزادی کو دبانے کی کوشش میں بدترین مظالم ڈھانے پر پاکستان کے خلاف کوئی تلخی کا 
احساس نہیں پا جاتا ہے۔  

یہ بات درست ہو سکتی ہے لیکن جو فعالیت مجھے اپنے گزشتہ ادوار میں نظر آئی اس بار اس کا فقدان رہا۔ گویا کہ لوگ تھک گئے ہیں۔ یہ ایک بات ہے کہ انہوں نے حکمرانوں کے جبر سے سمجھوتہ نہیں کیا ہے، حسینہ نے شاید اسے بھانپ لیا ہے۔ اسی لیے ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اسی طرح خاندانی حکومت دوبارہ قائم کرنے کا فیصؒہ کر لیا ہے جیسا کہ یہ شک ہے کہ بابائے قوم شیخ مجیب الرحمٰن اپنی بیٹی کے معاملے میں کر رہے تھے۔

آج انکے فرزند طاقتور ترین شخص ہیں اگرچہ وہ برائے نام امریکہ میں رہتے ہیں۔ موصوفہ نے انہیں تکنیکی میدان میں سرکاری عہدہ بھی دے رکھا ہے اور انہیں اسکی تنخواہ ملتی ہے۔ اس سے بلاشبہ خاندانی اقتدار کی بو آتی ہے۔ لگتا ہے کہ وہ آنجہانی اندرا گاندھہ، راہل گاندھی خاندانی حکومت کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔

فوج جو ملک کا طاقتور طبقہ ہے فائدہ اٹھا رہی ہے کیونکہ یہ کسی سیاسی جماعت سے زیادہ مقبول ہے۔ حسینہ نے فوجی افسران کو خوش کرنے اور اپنا فرفدار بنائے رکھنے کے لیے انہیں بہترین مراعات اور تنخواہیں دی ہیں۔
میں نے ایک معروف ایڈیٹر سے پوچھا کہ عوام بغاوت کر کے مسلح افواج کو ہٹا کیوں نہیں دیتے؟ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ عوام اور مسلح افواج کے درمیان تصادم ہو جانے کی صورت میں اسکا کیا نتیجہ برآمد ہوگا۔ اور یہ بھی کہا کہ یہ صورت حال ایسی ہی ہو گی کہ کڑھائی میں سے نکلے تو آگ میں گرے۔ ہو سکتا ہے کہ جماعت کے منضبط بنیاد پرست فتح مند ہو جائیں۔ یہی خیال اعتدال پسندوں کو بھی روکتا ہے جو تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ اس سے اس خیال کو بھی تقویت ملتی ہے کہ بنگلہ دیش کو سابقہ صورت حال کو کیوں نہیں چھیڑنا چاہیے۔

کلدیپ نائر
بہ شکریہ روزنامہ ’’راشٹریا سحارا 

Bangladesh Past and Future

Monday, November 24, 2014

مکلی میں چند مشہور مقابر.....


مقبرہ جانی بیگ اور مقبرہ غازی بیگ:جانی بیگ، ٹھٹھہ کا آخری خود مختار فرمانروا تھا اس نے شہنشاہ اکبر کے جرنیل کا بہت مردانہ وار مقابلہ کیا جو سندھ پر قبضہ کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا لیکن وہ ناکام رہا بعد میں اس نے اطاعت قبول کرلی لہٰذا اسے بطور صوبیدار ٹھٹھہ بحال کر دیا گیا۔ وہ 1599ء میں فوت ہوا اور اس کا بیٹا غازی بیگ اس کا جانشین بنا اور صوبہ قندھار کا صوبیدار بھی مقرر کیا گیا۔ وہ 1611-12ء میں قتل ہوا۔ 

باپ اور بیٹے دونوں کی میتیں اس مقبرے میں 1613ء میں دفن کی گئیں۔ یہ ایک اونچی کرسی کے احاطہ میں ایستادہ ہے کرسی پتھر کی ہے لیکن اوپر کی عمارت مستطیل شدہ نیلی اینٹوں کی ہے۔ پتھر کے کام میں بعض خوبصورت نقاشی کے نمونے اور کتبے ہیں۔ مقبرہ نواب مرزا عیسیٰ ترجمان: یہ معزز انسان پہلے ترخان فرمانروا کا ہم نام تھا اور اسے شہنشاہ جہانگیر نے 1627ء میں جنوبی سندھ کا گورنر مقرر کیا اس نے اسی سال اپنا مقبرہ بنانا شروع کر دیا یہ 1644ء میں مکمل ہوا مقبرہ بحیثیت مجموعی پہاڑی پر سب سے زیادہ پر جلال ہے یہ ایک وسیع احاطہ میں ایستادہ ہے اور خود 70 مربع فٹ ہے پورا مقبرہ پیلے رنگ کے پتھر سے بنا ہے جس پر بہت دیدہ زیبی اور خوبصورتی سے نقاشی کی گئی ہے۔ گنبد باہر کی طرف سادہ اور سفید ہے۔ نواب مرزا طغرل بیگ:کلان کوٹ کسی وقت طغرل آباد کہلاتا تھا جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ کوئی مشہور کمانڈر تھا اس کا مقبرہ قدرے انحطاط میں ہے لیکن کچھ عرصہ قبل اسے مزید نقصان سے محفوظ کر دیا گیا ہے یہ قریباً سارا ہی پتھر کا ہے اس کا گنبد یا چتر پتھر کے بارہ منقش ستونوں پر ایستادہ ہے۔ 

مقبرہ دیوان مشروفہ خان: یہ مذکورہ بالا دو سفید گنبد کے مقبروں کا تضاد ہے کیونکہ اس کا گنبد باہر کی طرف نفیس ترین سرخ اینٹوں کا بنا ہوا ہے جن میں نیلی سبز مینار کاری کی قطاریں عجیب منظر پیش کرتی ہیں یہ ایک بڑے صحن میں ایک چبوترے پر ایستادہ ہے دیوان ایک ارغون تھا اور دلی سے مقرر شدہ ٹھٹھہ کے وزیر کا گورنر تھا اس کا مقبرہ اس کی زندگی میں 1638ء میں تعمیر کیا گیا۔ مقبرہ نواب امیر خلیل خان: یہ 1572ء اور 1558ء کے درمیان کہیں تعمیر ہوا اس پر ایک موثر اور بے نظیر کتبہ ہے جو بڑی بڑی گاڑھی نیلی ٹائیلوں کی ایک چوڑی پٹی پر سفید عربی حروف میں لکھا ہوا ہے۔ مقبرہ عیسیٰ ترخان: یہ سندھ کا پہلا ترخان فرمانروا تھا اور اس کا مقبرہ 1573ء میں تعمیر شدہ بتایا جاتا ہے یہ متعدد چھوٹے چھوٹے مقابر کے ساتھ ایک بڑے مربع احاطے میں ایستادہ ہے۔

 جس کے اندر چھوٹے چھوٹے احاطے ہیں سب پتھر کے بنے ہوئے ہیں اور سب پر نقاشی، کندہ کاری اور کہیں کہیں برمائی بھی کی گئی ہے۔ مقبرہ جام نظام الدین:یہ پہاڑی پر سب سے پرانا مقبرہ ہے اور واضح تاریخی دلچسپی کا حامل ہے یہ 1508ء میں بنایا گیا جام نظام الدین سمہ جاموں میں آخری سے پہلا فرمانروا تھا اس کا مقبرہ ایک مربع عمارت ہے غیر مسقف اور پورا پتھر سے بنا ہوا۔ دیوار میں دو ملحقہ پتھر بھی کبھی کبھار مختلف چوڑائیوں کے ہیں اور ان پر نمونے بھی غیر مشابہ ہیں ایک ملحقہ مزار جو یقینا بعد کا ہے اندرونی طور پر فیصل شدہ ٹائیلوں سے سجایا گیا ہے۔
  پاکستان کے آثارِ قدیمہ ٭

شیخ نوید اسلم

پاکستان: بزرگ افراد کے لئے بدترین ملک.....

جہانزیب ‘والدین کی اکلوتی اولاد ، مڈل کلاس فیملی سے تعلق ہونے کے باوجود بڑے لاڈ پیار سے پلا ۔بچپن سے کب لڑکپن اور پھر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا، جہانزیب تو کیا اس کے والدین کو بھی خبر نہ ہوئی ۔والد صاحب اب بیگم کے ساتھ ، ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں۔خیر سے جہانزیب بھی اچھی نوکری پر اپنے قدم جما چکا ہے۔ اب والدین خصوصاً والدہ کو اپنے بیٹے کے لئے، ایک عدد دلہن درکار ہے۔ دلہن کی تلاش کے بعد‘ شادی دھوم دھام سے کر دی جاتی ہے۔ کوئی ایک آدھ سال اچھا گزر ہی جاتا ہے پھر گھر میں وہی روایتی،نوک جھونک شروع ہو جاتی ہے۔ نوک جھونک،
لڑائی جھگڑے کا روپ دھارنے کے بعد، نفرت کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

 والدین سے بدسلوکیاں شروع ہو جاتی ہے۔ ماں بیچاری عارضہ قلب سے دنیا فانی سے کوچ کر جاتی ہے جبکہ والد کو جہانزیب اولڈ ہومز چھوڑ آتا ہے۔ یہ واقعہ مجھے آج لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ میری نظروں سے ایک رپورٹ گزری جس میں پاکستان کو بزرگ افراد کے حوالے سے چھٹا بد ترین ملک قرار دیا گیا ہے۔لیجئے ہمارے لئے ایک اور اعزاز۔ گلوبل ایچ واچ انڈیکس 2014 ء کے مطابق بزرگ افراد کے لیے‘ بدترین ملک ایک مرتبہ پھر افغانستان کو قرار دیا گیا ہے جبکہ پاکستان اس سلسلے میں چھٹا بدترین ملک ہے جبکہ بہترین ملک ناروے قرار پایا ہے ۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2050 ء تک مشرقی یورپ کے قریباً تمام ممالک کی 30 فیصد آبادی‘ بزرگ افراد پر مشتمل ہوگی۔ یہ انڈیکس ضعیف افراد کے معاشی اور معاشرتی حالات کی بنیاد پر تیار کیا جاتا ہے ۔ بزرگوں کے لیے بہترین ملک کے طور پر‘ ناروے نے اپنے ہمسایہ
ملک‘ سویڈن کی جگہ لی ہے جو اس سال دوسرے نمبر پر رہا ہے ۔

 تیسرے نمبر پر سوئٹزرلینڈ‘چوتھے پر کینیڈا اور پانچویں پر جرمنی ہے ۔اس فہرست میں شامل دس بہترین ممالک میں سے چھ مغربی یورپ‘دو شمالی امریکہ اور ایک ایک ایشیا اور آسٹریلیا کے براعظموں میں واقع ہیں۔اس رپورٹ میںکل96 ممالک کو آمدن کے تحفظ‘ صحتِ عامہ‘ صلاحیت و قابلیت اور معاشرتی کردار کی بنیاد پر جانچا گیا ہے ۔رپورٹ کے مطابق بزرگ افراد کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے حکومتوں کے ساتھ ساتھ‘ عوام کو بھی اپنے بزرگ افراد کے بارے میں اندازِ فکر تبدیل کرنے اور انہیں ٹائم دینے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان جیسا ملک ‘جہاں پہلے ہی غربت نے مستقل ڈیرے ڈال رکھے ہوں اور 58 فیصد آبادی خوراک کی کمی کا شکار ہو۔ صحت کی سہولیات ایسی ہوں کہ 32 فیصد بچوں کا وزن ‘پیدائش کے وقت اتنہائی کم ہوتا ہو اور ان بچوں کی اکثریت پانچ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی‘ موت کی آغوش میں چلی جاتی ہو۔ 

عالمی ادارہ صحت کو بھی اس صورت حال پر تشویش لاحق ہو۔ پولیو‘ گھمبیر مسئلہ بن چکا ہو۔ اوپر سے ایک اوررپورٹ میں‘ پاکستان کو بزرگ افراد کے حوالے سے چھٹا بد ترین ملک قرار دینا‘ کوئی نیک شگون نہیں۔ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کہیںجہانزیب جیسے کردار ‘ ہر گھر میں تو نہیں پائے جاتے۔اگر ایسا ہے تو ہمیں فوری طور پر اپنی اصلاح کرنا ہو گی تاکہ ہم ملک و قوم کی مزید بدنامی کا باعث نہ بنیں۔  ٭