Thursday, April 23, 2015

جماعت اسلامی بمقابلہ تحریک انصاف......


آج کراچی کے ضمنی انتخاب کا معاملہ بھی نمٹ جائے گا، انشاء اللہ انتخابی عمل پرامن رہے گا، رات تک نتیجہ آ جانے پر علم ہوجائے گا کہ کس نے کیا پایا؟اس الیکشن میں فتح سے زیادہ ووٹوں کی ممکنہ تعداد پر ہر ایک کی نظر ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کا یہ گڑھ ہے، اس کا سیاسی ہیڈکوارٹر یہاں موجود ہے، لمبے عرصے سے وہ یہ نشست جیتتی چلی آ رہی ہے، کارکنوں کی بڑی تعداد، مضبوط نیٹ ورک کے علاوہ اسی حلقے سے صوبائی اسمبلی کی دونوں نشستیں ان کے پاس ہیں۔ دیکھنا صرف یہ ہے کہ متحدہ جو ہر الیکشن میں سوا لاکھ ، ڈیڑھ لاکھ ووٹ لے لیتی تھی ، اس بار اس کے ووٹ کتنے ہوں گے؟ 

متحدہ کے مخالفین ہمیشہ سے یہ الزام لگاتے چلے آ ئے ہیں کہ اس کے کارکن پولنگ سٹیشنوں پر قبضہ کر کے بیلٹ باکس بھر دیتے ہیں۔ اس بار حالات چونکہ مختلف ہیں، ماضی کی روایت دہرائی نہیں جا سکے گی، اس لئے متحدہ کے امیدوار کے حاصل کردہ ووٹ ہی ان کی حقیقی سیاسی قوت اور پوزیشن کو ظاہر کریں گے۔ بعض لوگوں کو یہ اندیشہ ہے کہ چونکہ آپریشن کے باوجود ابھی متحدہ کی سیاسی قوت اور پوزیشن ختم نہیں ہوئی ، اسمبلیوں میں اس کے ارکان کی خاصی بڑی تعداد ہے، یہ سوچ بھی موجود ہے کہ کہیں آگے چل کرسیاسی مصلحتیں غالب آجائیں اور آپریشن مؤثر نہ رہے، اس لئے متحدہ کے نیٹ ورک سے بغاوت کرنے یا مقامی سطح پر ان کی مخالفت مول لینے کی ہر کوئی ہمت نہیں کرے گا۔یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ اس ایک سیٹ کے الیکشن کے بجائے کراچی کی تمام نشستوں پر جب الیکشن ہوا ، تب حقیقی صورتحال سامنے آئے گی،مگر کچھ نہ کچھ اندازہ تو بہرحال ہوجائے گا۔

میرے خیال میں اصل دلچسپی تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے مابین مقابلے کی ہے ۔دونوں میں سے زیادہ ووٹ کون لیتا ہے؟ بہت سے لوگوں کو حیرت ہے کہ ان دونوں جماعتوں میں سے ایک کا امیدوار دوسرے کے حق میں دستبردار نہیں ہواکہ اینٹی متحدہ ووٹ یکجا ہوجاتے اور بہتر فائیٹ ہو پاتی۔ہونا تو ایسا ہی چاہیے تھا،نیم دلانہ کوششیں بھی ہوئیں۔ اصل میں یہ ضمنی انتخاب کراچی میں سیاسی جانشینی کی جنگ ہے۔ بظاہر یوں لگ رہا ہے کہ متحدہ کو اس کے حقیقی سائز اور پوزیشن پر جانا پڑے گا۔ اس کا سائز کم ہونے سے جو خلا پیدا ہوگا، اسے کون پُر کرے گا، جو نشستیں متحدہ نہیں جیت سکتی، وہ کس کی جھولی میں گریں گی‘ لڑائی اسی نکتے پر ہو رہی ہے۔ کراچی کسی ایک پارٹی کا شہر کبھی نہیں رہا۔ یہاں مختلف پاور پاکٹس رہی ہیں۔ پیپلزپارٹی کی اپنی پاکٹ تھی، لیاری اس کا ہمیشہ گڑھ رہا۔ جے یوپی کا اپنا حلقہ اثر تھا۔ جماعت اسلامی یہاں کی بڑی اہم اور موثر جماعت تھی۔

مہاجر قومیت کی لہر نے البتہ کراچی کا پورا منظرنامہ بدل کر رکھ دیا۔ جے یوپی اور جماعت اسلامی سمیت دیگر جماعتیں اپنے ووٹ بینک اور پاورپاکٹس سے محروم ہو گئیں۔ لیاری البتہ پیپلزپارٹی کا رہا، اسے ایم کیوا یم فتح نہ کر سکی، اس کی بربادی بعد میں خود ان لوگوں نے کی، جنہیں وقت نے پیپلزپارٹی کی قیادت سونپ دی۔جے یوپی کمزور ہوگئی، مولانا نورانی کے انتقال کے بعد تو اس کانام ہی رہ گیا ہے، مسلم لیگ ن پر اگر توجہ دی جائے تو اس کے نیم مردہ وجود میں جان پڑ سکتی ہے،میاں صاحب نے مگر سندھ اس بار پیپلزپارٹی کو بخش رکھا ہے۔
جماعت اسلامی کو یہ کریڈٹ بہرحال جاتا ہے کہ اس نے کٹھنائیوں بھرے پچھلے دو تین عشروں میںجیسے تیسے سیاسی لڑائی جاری رکھی۔

 وہ ہر بار الیکشن میںموجود رہی، انتخابی نتائج میں مضحکہ خیز تناسب ہوتا، ڈیڑھ لاکھ کے مقابلے میں بیس ، پچیس یا تیس ہزارووٹ، جماعت نے مگر مورچہ خالی نہیں چھوڑا۔ 2002ء کے انتخاب میں ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے انہیں نصف درجن سے زائد نشستیں مل بھی گئیں، جماعتی زعما کا دعویٰ تھا کہ وہ تین نشستیں مزید جیت رہے تھے، مگر مقتدر قوتوںنے ایسا نہ ہونے دیا۔ یہ جیت جماعت کی نفسیات میں اہمیت رکھتی ہے۔ وہاں یہ سوچ پیدا ہوئی کہ اگر ایم کیو ایم کمزور پڑے یا انتخابی عمل کو شفاف بنایا جائے تو انہیں کراچی کی سیاست میںمعقول حصہ مل سکتا ہے۔

مئی 2013 ء کے انتخابات میں پاکستانی سیاست میں ایک نیا عنصر داخل ہوا، جس نے پرانے سیاسی پیمانوں کوتہس نہس کر دیا۔ تحریک انصاف نے اس الیکشن میں جہاں اپنی طاقت کا مظاہر ہ کیا، وہاں ووٹرو ں کے لئے نئی آپشن بھی پیدا کر دی۔ پنجاب میں پیپلزپارٹی کا صفایا ہوگیا، لاہور اور سنٹرل پنجاب میں اس کا ووٹ بینک ٹوٹ کر تحریک انصاف کی طرف گیا۔ لاہور اور دیگر شہروںبلکہ خیبر پختون خوا میں بھی کم وبیش یہی حال جماعت اسلامی کے ساتھ

ہوا۔ کراچی میں بھی تحریک انصاف نے سات آٹھ لاکھ ووٹ لے کر ہر ایک کو حیران کر دیا، وہ شہر کی دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری۔ جماعت اسلامی کے کارکن اور فیس بک پر اس کے پُرجوش حمایتی اس بات کو درست نہیں مانتے، ان کا خیال ہے کہ چونکہ جماعت اسلامی نے بائیکاٹ کر دیا تھا، اس لئے اس کے ووٹروں نے تحریک انصاف کے امیدواروں کو ووٹ ڈالا۔ یہ بات ممکن ہے کسی حد تک درست ہو، مگر ہمارے ہاں امیدوار ہی اپنے ووٹروں کو گلی محلے سے باہر نکال کر پولنگ سٹیشن تک لاتا ہے۔ امیدوار ہی نے بائیکاٹ کر دیا تو اس کے تمام کارکن ، پولنگ ایجنٹ گھروں کو چلے گئے، کسی نے اپنے ووٹروں کو متحرک کرنے ، گھر سے نکالنے کی زحمت ہی نہیں کی۔ اس لئے جماعت کا ہارڈ کور ووٹر تو بہرحال گھر ہی رہا۔اس انتخاب میںصورتحال کا درست اندازہ ہوپائے گا۔

جماعت نے اس حلقے میں خاصا کام کر رکھا ہے۔ اس کے دفاتر، تربیت یافتہ کارکن اور امیدوار کی مقامی سطح پر گہری شناسائی ، تعلقات اور اچھی ساکھ ہونے کے ساتھ ساتھ انہوں نے ڈور ٹو ڈور مہم بھی چلائی ہے۔ امیر جماعت نے بھی اس حلقے کو خاصا وقت دیا، بڑی ریلیوں اور جلسوں کے ساتھ ساتھ کارنر میٹنگز میں بھی جاتے رہے اور پارٹی کو نچلی سطح پر متحر ک کر دیا۔ راشد نسیم صاحب کو میڈیا نے اس بار خاصی کوریج دی ہے،ماضی میں تیس ہزار کے قریب ووٹ لے چکے ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ نئی صورتحال میں وہ جماعت کے روایتی حلقہ فکر اور حلقہ اثر سے باہر کے کتنے ووٹروں کو کھینچ پاتے ہیں؟

تحریک انصاف نے اپنے مخصوص انداز میں انتخابی مہم چلائی ہے۔ دھوم دھڑکا ، ریلیاں ، پرجوش تقریریں اور میڈیا ہائیپ پیدا کر کے وہ متحدہ کے مقابلے کی قوت ہونے کا تاثردینے میں کامیاب رہی،تنظیمی سطح پروہ کمزور ہے۔ ان کے امیدوار عمران اسماعیل حلقے میں اتنے معروف نہیں، گلی محلے کی سیاست وہ نہیں کرتے رہے، تحریک انصاف کے پاس مضبوط تنظیم اور تربیت یافتہ کارکن بھی موجود نہیں۔ ویسے تو یہ سب عام انتخابات میں بھی نہیں تھا، اس کے باوجودا نہیں ملک بھر سے ستر اسی لاکھ اور کراچی ، لاہور جیسے شہروں سے سات، سات لاکھ ووٹ مل گئے تھے۔ 

عمران خان کی سیاسی کمزوریاں اپنی جگہ ، یہ کریڈٹ توبہرحال جاتا ہے کہ انہوں نے روایتی سیاسی سٹرکچر کوچیلنج کرتے ہوئے اس پر زوردار ضرب لگائی ہے۔ پاکستانی سیاست اور روایتی سیاستدانوں کے چلن سے بیزار لوگوں کی انتخابی عمل میں واپسی اسی وجہ سے ممکن ہوپائی۔ تحریک انصاف کا ووٹ بینک تبدیلی کے خواہاں انہی لوگوں پر مشتمل ہے۔ جو گلی محلے، سٹرکوں، سیوریج کی درستی یا تھانے کچہری کی سیاست کے بجائے‘ اس پارٹی سے ملک گیر سطح پر نظام ٹھیک کرانے کے خواہش مند ہیں۔ دیکھنا یہی ہے کہ اس بار تحریک انصاف کا تبدیلی کا نعرہ کس حد تک پزیرائی حاصل کرتا ہے؟ بظاہر تومتحدہ کی پوزیشن سب سے بہتر ، اس کے بعد جماعت اور تیسری پوزیشن تحریک انصاف کی لگ رہی ہے۔ یہ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ عمران خان اور اس کی جماعت سرپرائز دینے کی ماہر ہے۔ تیس اکتوبر 2011ء کے لاہور جلسہ سے لے کر ملتان میں جاوید ہاشمی کی نشست جیتنے تک اس نے کئی حیران کن نتائج دئیے ہیں۔ خاموش ووٹروں کو وہ متحرک کر سکتی ہے، اگر ایسا ہوا تو یہ ترتیب مختلف ہو جائے گی۔

عامر خاکوانی


اوباما کی دادی عمرے کی ادائیگی کے لیے مکہ میں...

امریکی صدر باراک اوباما کی دادی سارہ عمر نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے مکہ میں جاری ایک نمائش کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے اسلام کی معتدل تعلیمات کی عکاسی ہوگی، جو برداشت کا درس دیتا ہے اور تشدد کو مسترد کرتا ہے۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق سارہ عمر، امریکی صدر کے چچا سعید اوباما، اوراپنے پوتے موسیٰ اوباما کے ساتھ عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب آئی ہوئی ہیں۔
انہوں نے حرمین شریفین کو توسیع دینے کے لیے سعودی حکومت کی کوششوں کی تعریف کی۔

سارہ عمر اور ان کے خاندان کے افراد نے مکہ کے ڈسٹرکٹ نسیم میں جاری اس نمائش کا دورہ کیا اور وہاں دو گھنٹے گزارے۔
انہوں نے کہا ’’یہ نمائش دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی، سائنسی اور مستند دستاویز کی مدد سے یہ جدید طریقے سے اسلام کے فروغ کی ایک بہت اچھی مثال ہے۔

اوباما کی دادی نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ اس نمائش کا انعقاد سعودی حکومت کی مدد سے دیگر ملکوں میں بھی کیا جائے گا، تاکہ اس آفاقی مذہب کے بارے میں غلط تصورات دور ہوسکیں۔

خدارا اکنامک کاریڈور کو ایک اور کا‪لا باغ ڈیم مت بنائیں


Wednesday, April 22, 2015

ارب پتی کلب...


ارب سے زائد انسانوں، سات براعظموں اور دو سو کے قریب چھوٹے، بڑے ممالک پر مشتمل اس وسیع و عریض عالمی گاؤں کے چوہدریوں، اس کے کرتا دھرتا، فیصلہ سازوں کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں۔ وہ 1826ء افراد جو نہ حکمران ہیں، نہ جرنیل۔ لیکن دنیا کے وسائل کے اصل مالک یہی وہ طاقتور ترین افراد ہیں، وسائل کے اعتبار سے دنیا کی مجموعی دولت کے خزانوں کے وہ سانپ ہیں۔ جن کے زیرقبضہ اثاثوں کی مالیت میں ایسے ہی اضافہ ہوتا ہے جیسے برسات کے موسم میں خود رو کھمبیاں اگ آتی ہیں۔ دن دگنی تو رات کو چوگنی ترقی۔ رپورٹ صرف، کم مائیگی کا احساس ہی نہیں دلاتی بلکہ ایسی بے بسی کی کیفیت میں بھی مبتلا کر دیتی ہے جو جسم و جاں سے توانائی کی آخری رمق بھی نچوڑ ڈالے۔ کم ہمتی اور لاچارگی ایسی کیفیت۔ ایسی رپورٹوں تک ہم عامیوں کی رسائی ذرا کم ہی ہوا کرتی ہے۔

وہی اطلاعات تک رسائی نہ ہونے کا معاملہ۔ وہی محنت نہ کرنے کی عادت۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ریسرچ نہ کرنے کی اصل وجہ راضی بہ رضا رہنے کی خیالی دنیا۔ یہ سمجھ کر بیٹھے بلکہ لیٹے رہنے کا شاخسانہ کہ رب کائنات نے کچھ خوش نصیبوں کو دولت سے نوازا ہے۔ ان پر ہن کی بارش کر رکھی ہے تو یقینی طور پر ان کی خوش بختی اور ہم دو ٹانگوں پر چلتی مخلوق میں سے اکثریت کے مقددرات۔ وہ تو بھلا ہو انٹرنیٹ کا۔ اب اس کی بدولت ایسی کلاسی فائیڈ رپورٹیں۔ خفیہ دستاویزات اور ایسے رسائل و میگزین بھی عام آدمی کی دسترس میں آ چکے جو گلیمرس دنیا کے پس پردہ اصل حقیقتوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔ ایسی ہی ایک رپورٹ بہت زیادہ طویل نہ مختصر، میز پر کئی روز سے پڑی ہے۔ جو بتاتی ہے کہ اتنی بڑی دنیا کی طاقت، اس کے وسائل، چند ہاتھوں میں سمٹ چکے۔ باقی سب کچھ دکھاوا۔
ملمع سازی، فریب کے سوا کچھ بھی نہیں۔ آزادی، انسانی حقوق، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، حریت پسندی، سب کے سب محض دکھاوا۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ صرف 1826ء خاص انسانوں کے پاس 7 کھرب 15 ارب ڈالر مالیت کی دولت اور اثاثہ بطور ملکیت ہیں۔ یاد رہے کہ بات آمدنی کی نہیں۔ بلکہ صافی دولت کی ہو رہی ہے۔ بین الاقوامی ماہرین اور بینکاری ذرائع کے مطابق انٹرنیشنل مارکیٹ میں 2014ء میں گلوبل ہاؤس ہولڈ ویلتھ کا والیم دو سو تریسٹھ ٹریلین ڈالر کا لگایا گیا۔ دولت کے یہ ماؤنٹ ایورسٹ زیادہ سے زیادہ چند ہزار افراد کی تجوریوں میں محفوظ پڑے ہیں۔ باقی اربوں انسانوں کو جو کچھ ملتا ہے وہ اتنا ہی جتنا شراب کے پیندے میں بچی کھچی تلچھٹ۔ ہماری اور آپ کی دنیا جس میں ہم سب کو فی الحال مفت میں آکسیجن پھپھڑوں میں اتار کر آتی جاتی سانسوں کا سلسلہ ہموار کرنے کی مفت عیاشی میسر ہے۔ اس دنیا میں ہر سال کروڑوں انسان خط غربت سے نیچے کی افلاس سے پر دنیا میں دھکیل دیئے جاتے ہیں۔ اسی دنیا میں مارکیٹوں پر راج کرتی کرنسی ڈالر میں ارب پتیوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

 ارب پتی، خواص کی کل تعداد ایک ہزار چار سو چھبیس تھی۔ لیکن صرف ایک سال کے وقفہ میں 2014ء کے آغاز تک قارون کے ہم قبیلہ ان افراد کی تعداد بڑھ کر اٹھارہ سو چھبیس تک پہنچ گئی۔ مشرق سے مغرب تک، شمال سے جنوب تک میدان کار زار گرم رہے۔ بارود کی بارش ہوتی رہی۔ جنگی سازوسامان تیار کرنے والی فیکٹریوں کی چمنیاں گاڑھا سیاہ دھواں اگلتی رہیں۔ جب تک دوسرے ملکوں کے وسائل پر قبضہ اور بالادستی کی جنگ جاری رہے گی۔ مٹھی بھر افراد کی دولت، ان کے اثاثوں، طاقت، اثرورسوخ میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ عالمی گاؤں کے یہ ایک فیصد فرعون، ایک سو دس ہزار ارب ڈالر سرمائے کے مالک ہیں۔ یہ دنیا بھر کے غریب متوسط طبقے کی بچت سے بچائے پیسوں سے 65 گنا زیادہ ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا تخمینہ ہے کہ یہ دنیا کے 85 فیصد غریب کی کل دولت کی تعداد ان افراد کی مجموعی دولت سے بھی کم ہے۔ گزشتہ 30 سالوں میں 100 سے زائد ممالک ایسے ہیں جن میں امیر اور غریب کے درمیان فرق کی خلیج روز بروز گہری ہو رہی ہے۔ گویا دنیا کے نظام میں کہیں نہ کہیں کوئی ایسا میکنزم، کوئی ایسی خفیہ فیکٹری، کوئی ایسے پوشیدہ ہاتھ ضرور ہیں جہاں ارب پتیوں کی مینوفیکچرنگ ہوتی اور غریبوں کو ایکسپائر شدہ آئٹم کی طرح ضائع کیا جا رہا ہے۔

یہ نظام، یہ فیکٹری، پوشیدہ ہاتھ وہ ملٹی نیشنل کمپنیاں، میڈیا کے ادارے اور مجبور محض حکومتیں اور وہ غیر حقیقی جمہوری نظام ہے جو امیر کو امیر تر اور غریب کے گلے میں افلاس کا پھندہ کستا چلا جاتا ہے۔ دنیا کے وسائل پر قابض یہ ایک فیصد اقلیت ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے بنی نوع انسان پر حکمرانی کرتی اور اپنی دولت میں اضافہ کرتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کو فنڈنگ کر کے بین الاقوامی سطح پر ایسے قوانین بنوائے جاتے ہیں جو کالے دھن کو سفید کرنے کے لئے چور دروازے فراہم کرتے ہیں۔ ٹیکس چوری کے راستے تلاش کئے جاتے ہیں۔ معاشی رازداری کے نام پر اصل زر کو چھپانے کے لئے کور دیئے جاتے ہیں۔ کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر زرعی اجناس کو اپنی مٹھی میں رکھا جاتا ہے۔ پانی اور دیگر قدرتی وسائل پر قبضہ کیا جاتا ہے۔ تعلیم، صحت ایسی سہولیات پر بجٹ خرچ کرنے کی بجائے لائف سٹائل اپنانے کی تلقین و ترغیب دی جاتی ہے۔ اس ترغیبی مشن میں کارپوریٹ میڈیا بنیادی کردار ادا کرتا ہے جو عوام کو بتاتا ہے کہ مسی روٹی کی بجائے پیزا فیشن اور تہذیب کی نشانی ہے۔

جو مسواک کی بجائے ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنے پر اکساتا ہے۔ جو ٹماٹر کی چٹنی کی بجائے اشتہاانگیز کیچ اپ دکھا کر غریب کی جیب کاٹتا ہے۔ جو گھر کے کھانے کی بجائے برگر اور لیموں کی سکنجبین کو چھوڑ کر پیپسی اپنانے کی راہ دکھاتا ہے۔ یہ میڈیا ہی ہے جو سبق دیتا ہے کہ محلے کے درزی کی بجائے بوتیک سے برانڈڈ کپڑوں کی خریداری کے بغیر زندگی ادھوری ہے۔ قسطوں پر ٹی وی، فریج اور لیزنگ کی گاڑیاں خریدنے کے لئے نت نئے حربے سکھاتا ہے۔ بھارت ایسے ملک میں سوا ارب آبادی میں سے صرف ایک درجن افراد ایسے ہیں جن کی جیبوں میں 250 ارب ڈالر ٹھنسے ہوئے ہیں۔ باقی بھارت کرکٹ، شوبز کی گلیمرس دنیا کا اسیر ہے۔ ایسی ہی صورت حال وطن عزیز میں ہے۔ جہاں وسائل پر چند خاندانوں کا قبضہ ہے۔ ایسے خاندان جو حکومت پاکستان میں، لیکن سرمایہ کاری بیرونی ممالک میں کرتے ہیں۔ جو بین الاقوامی شہری ہیں۔ بس ووٹ پاکستان میں درج ہے۔ دنیا کی دولت کے یہ مالک ایک فیصد ارب پتی، آپس میں، ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ڈائریکٹر شپ، سٹاک مارکیٹ کے حصص اور مفادات کے ناطوں سے رشتہ داریوں میں جکڑے ہوتے ہیں۔ ارب پتی کلب کے یہ ارکان ایک دوسرے کے رشتے دار اور ان کی رگوں میں ایک ہی خون، ڈالر، پونڈ بن کر دوڑتا ہے۔ ان کا ڈی این اے ایک دوسرے سے میچ کرتا ہے۔

طارق محمود چوہدری

بشکریہ روزنامہ "نئی بات

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...