Sunday, February 22, 2015

پاکستان کو ورلڈکپ میں رہنا ہے تو تین میچ جیتنا ہونگے......


پاکستان کو ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کا سامنا رہا۔یہ پاکستان کی خوش قسمتی تھی کہ وہ ٹاس جیتا مگر مصباح اینڈ کمپنی نے اس قدرتی انعام کو ٹھکراتے ہوئے ویسٹ انڈیز کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی۔ ویسٹ انڈیز 310 رنز کا ایک بڑا سکور بنانے میں کامیاب ہو گیا۔

 اتنے بڑے سکور بنوانے میں مصباح کی کمزور کپتانی کا بڑا عمل دخل رہا کیونکہ ایک بیٹنگ وکٹ پر ویسٹ انڈیز کو پہلے کھیلنے کی دعوت دیا ور جب پاکستان نے جلد دو وکٹ حاصل کر لیں تو مصباح نے بغیر وجہ کے اپنے سپنروں کو باؤلنگ دیدی جس سے پریشر ویسٹ انڈیز سے اُتر گیا اور خوب مار پڑی اور سونے پر سہاگہ پاکستان نے پھر ایک کمزور ٹیم میدان میں اُتاری اور پاکستان پھر 4 ریگولر باؤلروں سے کھیلا، ایک باؤلر کم کھلایا گیا۔

 یونس خان اور ناصر جمشید کو کھلا کر بیٹنگ نمبر آٹھ تک کر دی گئی مگر وہ کام نہ آ سکی۔ بقول عمران خان ہر میچ پانچ ریگولر باؤلروں سے کھیلنا چاہئے۔ آدھا باؤلر، آدھا بیٹسمین اتنی بڑی کرکٹ میں نہیں چلتا۔ یونس خان کو پھر کھلاڑیا گیا جس نے ابھی تک 8 میچ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ میں کھیلے ہیں اور کل 73 رنز بنائے ہیں۔ یونس خان ون ڈے کرکٹ کا کھلاڑی نہیں رہا اسے بار بار چانس دے کر پاکستانی ٹیم کا بیڑہ غرق کیا جا رہا ہے۔ 

ورلڈکپ کے پہلے میچ میں بھارت کے خلاف پاکستان کی ایک سکور پر تین کریم وکٹ احمد شہزاد، عمر اکمل اور صہیب مقصود کی گریں جبکہ آج ویسٹ انڈیز کیخلاف ایک سکور پر احمد شہزسد، عمر اکمل، یونس خان اور ناصر جمشید یہ 4 کریم وکٹ گریں۔ ایسی صورت میں جیت تو دُور کی بات عزت کی شکست بھی ناممکن تھی۔

 پاکستان کرکٹ ٹیم نے پوری قوم کو بہت مایوس کیا ہے۔ اگر پاکستان کو ابھی بھی ورلڈکپ میں آنا ہے تو بقیہ 4 میچوں میں سے ہر صورت تین میچ جیتنے ہونگے تبھی پاکستان ورلڈکپ کی ریس میں رہ سکتا ہے اور یہ 4 میچ آئرلینڈ، زمبابوے، یو اے ای اور ساؤتھ افریقہ کیخلاف کھیلنے باقی ہیں جن میں آئرلینڈ، زمبابوے اور یو اے ای سے جیتا جا سکتا ہے اور پاکستان کو اگلے میچ میں 2 تبدیلیاں کرنا ہونگی۔ یونس خان اور ناصر جمشید کو نکال کر سرفراز احمد اور راحت علی کو ٹیم میں ڈالنا ہو گا۔

محمد صدیق

شکست درشکست،اب کیا ہوگا؟....


روایتی حریف بھارت کے ہاتھوں پہلے ہی مقابلے میں شکست نے پاکستان کے کھلاڑیوں کی نفسیات پر کتنا گہرا اثر مرتب کیا، اس کا اندازہ ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ سے ہوگیا ہے۔ ایک ایسے میچ میں کہ جہاں پاکستان کو جیت کی سخت ضرورت تھی، اتنی ہی بدترین کارکردگی دکھائی گئی اور ٹیم عالمی کپ تاریخ کی بدترین شکست سے دوچار ہوئی۔

مسائل وہی جانے پہچانے اور پرانے، گیند باز وکٹیں لینے کے اہل نہیں، فیلڈر کیچ پکڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور بلے باز رنز کرنے کا گْر نہیں جانتے۔ اس کے مقابلے میں ویسٹ انڈیز نے بہترین کھیل پیش کیا، جس کی جتنی داد دی جائے کم ہے۔ بدقسمتی سے ہم پاکستان کی شکست میں حریف کی کارکردگی کو سراہنا بھول جاتے ہیں۔ ویسٹ انڈیز نے ان تمام غلطیوں کا ازالہ کیا، جو اس سے آئرلینڈ کے خلاف مقابلے میں ہوئی تھیں۔ مجموعے کو ایک بار پھر 300 سے اوپر لے کر انھوں نے اپنی بیٹنگ اہلیت تو ثابت کی ہی لیکن کل باؤلنگ میں انھوں نے پاکستان کی کمزوری کا پورا پورا فائدہ اٹھایا اور اپنے امکانات دوبارہ زندہ کردیے۔

سب سے پہلے تو پاکستان کو سمجھنا ہوگا کہ کرکٹ ’’آج‘‘ کا کھیل ہے، آپ نے ’’کل‘‘ جو کر دکھایا تھا، اس کی سوائے ریکارڈ بک کے کوئی جگہ نہیں۔ بھارت اور ویسٹ انڈیز کے خلاف شکست کو بھی قصہ پارینہ سمجھیں اور 23 سال پہلے 1992ء کے عالمی کپ میں ابتدائی شکستوں کے پاکستان کے سنبھلنے کی خوش فہمیوں سے بھی دامن چھڑائیں۔ اب حالات تبدیل، ورلڈ کپ فارمیٹ بدلا ہوا اور 1992ء کے مقابلے میں کرکٹ کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے 60ء کی دہائی میں ہاکی پر پاکستان اور بھارت کا راج تھا، لیکن آج ان دونوں کا دور دور تک پتہ نہیں۔ اسی طرح کرکٹ بھی کافی حد تک بدل چکی ہے اور پاکستان کو جدید طور کے تقاضوں کے مطابق کھیلنا ہوگا۔

پاکستان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ ورلڈ کپ ابھی ابتدائی مرحلے میں موجود ہے اس لیے فی الحال تو کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کون کوارٹر فائنل مرحلے تک رسائی حاصل کرے گا لیکن آئرلینڈ کی اپ سیٹ فتح اور اب پاکستان کی ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکست نے ’’گروپ آف ڈیتھ‘‘ یعنی پول ’بی‘ مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ جنوبی افریقہ جس کارکردگی کا مظاہرہ کرتا آ رہا ہے، اس سے لگتا تو یہی ہے کہ وہ گروپ میں سرفہرست مقام حاصل کرے گا اور اتوار کو بھارت کے خلاف اس کا مقابلہ ممکنہ طور پر گروپ کی سرفہرست پوزیشن کا اعلان کرے گا۔ دونوں ٹیموں نے عالمی کپ میں آغاز بہترین انداز میں کیا ہے اور آیندہ مقابلوں میں بھی کوئی ان کو شکست دیتا نہیں نظر آتا یعنی دونوں کی کوارٹر فائنل نشست اس وقت تو یقینی دکھائی دیتی ہے، الا یہ کہ کچھ بہت بڑے اپ سیٹس ہوجائیں۔

اب گروپ میں صرف دو مقام بچیں گے کہ یعنی باقی 5 میں سے صرف دو ٹیمیں ہی کوارٹر فائنل میں پہنچیں گی۔ عالمی درجہ بندی دیکھیں تو پاکستان اور ویسٹ انڈیز کو پہنچنا چاہیے لیکن آئرلینڈ اور زمبابوے نے اپنے کھیل سے بہت متاثر کیا ہے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف آئرلینڈ کی جیت نے گروپ کے توازن کو بگاڑ دیا ہے اور اب اگر آئرلینڈ نے ایک اور اپ سیٹ کردیا تو پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے لیے سخت مشکلات کھڑی ہوسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زمبابوے اور آئرلینڈ کے مقابلے کو بھی خاص اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ اس وقت آئرلینڈ اور زمبابوے دونوں کے دو، دو پوائنٹس ہیں اور وہ آیندہ مقابلوں میں دو فتوحات حاصل کرکے اپنے امکانات روشن کرسکتے ہیں۔

 آئرلینڈ آیندہ مقابلوں میں متحدہ عرب امارات کو شکست دے سکتا ہے۔ البتہ پاکستان اور زمبابوے کے خلاف اس کے مقابلے بہت اہمیت کے حامل ہوں گے، جہاں جیتنے کی صورت میں اس کے پوائنٹس کی تعداد بھی 6 ہوسکتی ہے۔ زمبابوے نے جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے مقابلے میں جم کر کھیل پیش کیا، پھر متحدہ عرب امارات کو سخت مقابلے میں شکست دی اور اب دو پوائنٹس کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر موجود ہے۔ بھارت، آئرلینڈ، ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے خلاف اس کے مقابلے ابھی باقی ہیں جن میں سے دو بھی جیت گیا تو گروپ پھنس جائے گا۔

متحدہ عرب امارات سے فی الحال کوئی توقع نہیں ہے کہ وہ کوئی اپ سیٹ کرے گا، لیکن کرکٹ میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اس لیے اگر پاکستان، آئرلینڈ یا ویسٹ انڈیز کسی بھی ٹیم کو عرب امارات سے شکست ہوئی تو سمجھیں اس کے امکانات ختم ہوجائیں گے۔

پاکستان کو یہ صورتحال درپیش ہے کہ اگر وہ باآسانی اگلے مرحلے تک پہنچنا چاہتا ہے تو اسے اپنے چاروں میچز جیتنے پڑیں گے، یعنی جنوبی افریقہ کو بھی ہرانا ہوگا۔ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہا تو اسے متحدہ عرب امارات، زمبابوے اور آئرلینڈ کو شکست دینے کے ساتھ دیگر نتائج کا انتظار بھی کرنا پڑے گا یعنی وہی 1992ء والی صورتحال۔

تو دل تھام کر رکھیں، پاکستان ابھی ورلڈ کپ سے باہر نہیں ہوا، حوصلے ضرور ٹوٹے ہیں، ڈریسنگ روم کا ماحول بھی بہت اداس ہوگا اور امیدیں بھی بہت کم دکھائی دے رہی ہیں۔ لیکن ابھی اپنے غصے کی لگامیں تھامیں رکھیں، پاکستان کے اب بھی آگے

فہد کیہر

Saturday, February 21, 2015

Battle for Aleppo


Aleppo is the largest city in Syria and serves as the capital of Aleppo Governorate, the most populous Syrian governorate. With an official population of 2,132,100 (2004 census), it is also one of the largest cities in the Levant. For centuries, Aleppo was the Syrian region's largest city and the Ottoman Empire's third-largest, after Constantinople and Cairo.

Aleppo is one of the oldest continuously inhabited cities in the world; it has been inhabited since perhaps as early as the 6th millennium BC. Excavations at Tell as-Sawda and Tell al-Ansari, just south of the old city of Aleppo, show that the area was occupied since at least the latter part of the 3rd millennium BC; and this is also when Aleppo is first mentioned in cuneiform tablets unearthed in Ebla and Mesopotamia, in which it is noted for its commercial and military proficiency.[12]Such a long history is probably due to its being a strategic trading point midway between the Mediterranean Sea and Mesopotamia (i.e. modern Iraq).

The city's significance in history has been its location at the end of the Silk Road, which passed through central Asia and Mesopotamia. When the Suez Canal was inaugurated in 1869, trade was diverted to sea and Aleppo began its slow decline. At the fall of the Ottoman Empire after World War I, Aleppo ceded its northern hinterland to modern Turkey, as well as the important railway connecting it to Mosul. Then in the 1940s it lost its main access to the sea, Antioch and Alexandretta, also to Turkey. Finally, the isolation of Syria in the past few decades further exacerbated the situation, although perhaps it is this very decline that has helped to preserve the old city of Aleppo, its medieval architecture and traditional heritage. It won the title of the "Islamic Capital of Culture 2006", and has also witnessed a wave of successful restorations of its historic landmarks, until the start of the Syrian Civil War in 2011 and the Battle of Aleppo.












Friday, February 20, 2015

Chinese New Year - Year of the Sheep


The Chinese word yáng refers both to goats and sheep, with shānyáng specifically goats and miányáng sheep. In English, the sign (originally based on a horned animal) may be called either. The interpretation of sheep or goat depends on culture. In Vietnamese, the sign is mui, which is unambiguously goat. In Japan, on the other hand, the sign is hitsuji, sheep; while in Korea and Mongolia the sign is also sheep or ram. Within China, there may be a regional distinction with the zodiacal yáng more likely to be thought of as a goat in the south, while tending to be thought of as a sheep in the north.













Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...