Friday, October 24, 2014

مذہبی تعصب اور تعمیر و ترقی کا دعویٰ.....


بابری مسجد کے 1992ء میں انہدام پر مسلمانوں نے آزادی کے بعد پہلی بار محسوس کیا کہ وہ حقیقی طور پر ایک اقلیت ہیں۔ مذہب کی بنیاد پر برصغیر کی تقسیم نے ان کے مستقبل پر کوئی منفی اثر نہیں ڈالا تھا کیونکہ اس کی وجہ جواہر لعل نہرو کا آزاد خیال دور حکومت اور آئین میں ملک کے تمام شہریوں کو دیے گئے مساویانہ حقوق کی یقین دہانی تھی حالانکہ ایسے وقت میں کہ جب تقسیم کے دوران دونوں جانب ہونے والے کشت و خون نے حالات کو انتہائی مخدوش بنا رکھا تھا کیونکہ انتقال آبادی کے دوران دس لاکھ سے زائد لوگ موت کے گھاٹ اتار دیے گئے تھے۔ لیکن آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت نے یہ اعلان کر کے کہ 2019ء تک رام مندر تعمیر کر لیا جائے گا، مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑک دیا ہے۔

تاہم وہ بے بسی سے اس نقصان کو برداشت کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ انھیں سرنگ کے دوسرے سرے پر کوئی روشنی نظر نہیں آ رہی۔بابری مسجد کی جگہ پر راتوں رات چھوٹے سے مندر کی تعمیر کے بعد لگتا تھا کہ یہ معاملہ وقتی طور پر ہی سہی اب ختم ہو گیا ہے لیکن اس سے مسلمان مطمئن نہ ہو سکے اور نہ ہی وہ سمجھتے تھے کہ یہ ان کے مفاد میں ہے۔ جب کہ بی جے پی‘ جس کی راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) رہنمائی کرتی ہے‘ اب پھر ماحول میں وہی کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حکومت کی طرف سے سیکولر ازم کے پرچار نے صرف ہندوتوا کے عناصر کی مدد کی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اس کشیدگی کو دور کرنے کی خاطر کوئی مثبت اقدام بھی کر سکتے تھے لیکن ان کی پارٹی ایسا نہیں کرنا چاہتی کیونکہ ان کا فائدہ منقسم اور منتشر معاشرہ میں ہی ہے۔ کوئی باہر کا شخص بھی اس سلسلے میں مداخلت نہیں کر سکتا کیونکہ اس وقت کے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر عمل کرنے کی کوشش کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ’’اسٹیٹس کو‘‘ برقرار رکھا جائے۔

سیکولر معاشرے کو ہندو بنانے کی کوشش ملک کی یکجہتی کے لیے خطرناک ثابت ہو گی۔ مذہب کسی قوم میں کبھی یکجہتی پیدا نہیں کر سکتا، جس کی واضح مثال بنگلہ دیش کے پاکستان سے علیحدہ ہونے میں دیکھی جا سکتی ہے۔ مشرقی پاکستان پر زبردستی اردو نافذ کرنے کی کوشش کی گئی جس سے وہ آزاد اور خود مختار بنگلہ دیش بننے پر مجبور ہو گیا۔بھارت اس وجہ سے متحد ہے کیونکہ مختلف ثقافتی شناختوں کو چھیڑا نہیں گیا۔ درست ہے کہ ہندو مجموعی آبادی کا 80 فیصد ہیں لیکن مسلمانوں کی اقلیت کو مٹھی بھر جنونیوں کے علاوہ کبھی کسی نے تنگ نہیں کیا۔

یہ درست ہے کہ عوام کو بائیں بازو کے نظریے کے تحت زیادہ فوائد حاصل ہو سکتے ہیں مگر مغربی بنگال میں کمیونسٹوں کی 25 سال تک حکومت نے اس نظریے کو بہت مہلک نقصان پہنچایا ہے جن کی حکومت عوام کو بنیادی تعلیم تک فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ کمیونسٹوں کے ڈھائی عشروں کی حکومت کے بعد بھی پڑھے لکھے مسلمانوں کی شرح 2.5 فیصد سے زیادہ نہیں بڑھ سکی۔ اگر آر ایس ایس فی الواقعی ہندوتوا میں دلچسپی رکھتی ہے تو اسے دلتوں کے حقوق کے لیے لڑنا چاہیے جن کے ساتھ حد سے زیادہ منافرت انگیز سلوک کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی وہ خود کو ہندوؤں میں شامل سمجھتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ان میں سے بعض نے دوسرا مذہب اختیار کر کے نجات حاصل کر نے کی کوشش کی ہے مگر انھوں نے مسلمانوں اور عیسائیوں میں شامل ہو کر ان کے معاشروں پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں‘ اپنا مذہب تبدیل کرنے والے دلتوں کو ان کے نئے مذہبی معاشروں میں بھی اسی امتیازی سلوک کا نشانہ بننا پڑ رہا ہے جس کا وہ تبدیلی مذہب سے پہلے شکار تھے۔

آر ایس ایس کا سربراہ جو ہندوؤں کے تحفظ کا دعویدار ہے دلتوں کے زندہ جلائے جانے پر اس نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا کیونکہ اس کا اپنا تعلق بھی ہندوؤں کی اونچی ذات سے ہے۔ اب جب کہ مودی نے ملک کے خیالات کو اپنی طرف موڑ لیا ہے لہذا انھیں چاہیے کہ دلتوں کا مسئلہ حل کریں اور اونچی ذاتوں والے ہندوؤں سے کہیں کہ وہ دلتوں کے خلاف امتیازی سلوک بند کر دیں۔

میں نے مودی یا ان کے پیروکاروں کے منہ سے ہلکی سی تنقید تک نہیں سنی جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بھارت کا ایسا مستقبل تعمیر کریں گے جس میں کسی قسم کا کوئی تفرقہ یا امتیاز نہیں ہو گا۔ کم از کم روز مرہ کے تعصب سے قطع نظر بھارت کے سرکاری ٹیلی ویژن نیٹ ورک دور درشن کو دلتوں کے زندہ جلائے جانے کی خبر ضرور نشر کرنی چاہیے تھی جو کہ ملک بھر میں وسیع پیمانے پر دیکھا جاتا ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت خود نہیں چاہتی کہ اس معاملے کو منظر عام پر لایا جائے کیونکہ حکومت میں بھی اونچی ذات والوں کا غلبہ ہے۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے جیسے ملک میں کوئی غیر تحریر شدہ قانون نافذ ہے جس کا تقاضا ہے کہ اس قسم کی خبروں کو ظاہر ہی نہ کیا جائے۔ اور یہ بات پریس کی آزادی کے زمرے میں تو نہیں آتی۔

ملک کے ادارے کمزور ہو رہے ہیں۔ میڈیا جو کہ بے حد اہم ادارہ ہے اگر وہ آزد ہوتا تو آر ایس ایس کو ملکی آئین کے بنیادی ڈھانچے کو چیلنج کرنے کی ہر گز جرات نہ ہوتی جس میں کہ سیکولر ازم کو اولین ترجیح دی گئی۔ آر ایس ایس کے سربراہ کو احساس کرنا چاہیے کہ ہندو دھرم کی بنیاد برداشت‘ تحمل اور رواداری پر ہے نہ کہ معاشرے کو تقسیم در تقسیم کرنے پر ہے۔

بی جے پی کا پھیلنا تشویش کا باعث ہے کیونکہ اسے مسلمانوں کی امنگوں کا کوئی احساس نہیں۔ مودی کی طرف سے تعمیر و ترقی کا نعرہ اس وجہ سے مقبول ہوا کہ اس سے لوگوں کو اپنی غربت کے دور ہونے کی امید پیدا ہوئی تھی۔ یہ ایک اچھی بات ہے کہ انھوں نے اپنے اس راستے کو ترک نہیں کیا لیکن اس سے کے آر ایس ایس کے ساتھ بہت زیادہ رابطوں اور ان کے سب سے اہم آدمی امیت شاہ سے تعلقات مودی کے بارے میں کوئی اچھا تاثر پیدا نہیں کرتے۔ یہ بے حد متعصب لوگ ہیں۔

اگر بی جے پی کے آزاد خیال لوگوں کی طرف سے اس پر زور دیا جاتا کہ وہ آر ایس ایس سے ہر قسم کے تعلقات ختم کر دے تو حالات خاصے بہتر ہو سکتے تھے۔ ایک دفعہ اس قسم کا موقع پیدا ہوا تھا جب گاندھی کے پیروکار جے پرکاش نرائن نے جَن سَنگھ کے چوٹی کے لیڈروں کو اس بات پر آمادہ کر لیا تھا کہ وہ اپنی یہ متعصب تنظیم ختم کر کے جنتا پارٹی میں شامل ہو جائیں لیکن جن سنگھ کے پرانے ارکان مسلسل آر ایس ایس کے ساتھ رابطے میں رہے جس سے وہ مقصد فوت ہو گیا۔

آزاد خیال اٹل بہاری واجپائی نے آر ایس ایس اور جن سنگھ سے تعلقات ختم کرنے کی اپنی سی پوری کوشش کی لیکن اس کی کامیابی محض کاغذ تک محدود رہی کیونکہ وہ پرانے اراکین کی وفاداریوں کو ختم نہ کرا سکے۔ ایل کے ایڈوانی وہ شخص تھے جنہوں نے بی جے پی کی بنیاد رکھی تھی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ جنتا پارٹی میں جن سنگھ کے پرانے اراکین پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ وہ پارٹی کی تعمیر کرنے میں کامیاب رہے کیونکہ جے پرکاش نرائن نے جن سنگھ کے اراکین کو جنتا پارٹی کے حصار میں لا کر ان پر اعتماد کا اظہار کیا تھا۔

آر ایس ایس کے سربراہ نے رام مندر کی تعمیر کا مسئلہ اٹھاکر بی جے پی کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے جس سے خود مودی کی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے جو کہ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ ان کا ایجنڈا صرف تعمیر و ترقی ہے تقسیم اور تفرقہ نہیں۔ یہ بی جے پی کی خوش قسمتی ہے کہ اس وقت مودی کو عروج حاصل ہو رہا ہے جس کی وجہ سے پارٹی کی اصل نیت پس منظر میں چلی گئی ہے اور یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ سیکولر پارٹیاں خود اپنے طور پر ابتر حالات کا شکار ہیں جن کی بحالی کی مستقبل قریب میں کوئی امید نظر نہیں آتی۔

کلدیپ نائر
بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس

معروف اسلامی اسکالر پروفیسر غلام اعظم کا جسد خاکی جیل سے ان کی رہائش گاہ لایا جا رہا ہے







I Am Not Malala



I Am Not Malala

انقلاب نعروں سے نہیں‘ فکر اور دلائل سے آتا ہے.....

 
تحریکات میں جذبات کے اظہار کی، جلسوں اور جلوسوں کی اور متعین مقاصد کے لیے سیاسی جدوجہد کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے بغیر آج کے دور میں کسی بڑی سیاسی تبدیلی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ آپ جب کوئی نعرہ بلند کرتے ہیں تو مجھ جیسے بوڑھے آدمی کے خون میں بھی حرارت پیدا ہوجاتی ہے، لیکن یہ کسی انقلاب کے لیے ناکافی ہے۔ انقلاب دنیا میں نعروں سے اور سلوگن سے نہیں آئے گا۔ انقلاب آئے گا فکر سے اور دلائل سے۔ دنیا آپ کی بات سن کر کہے کہ ہمارے سامنے ایک نیا سسٹم آگیا ہے، اس پر غور کیے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔ آج آپ کہیں بھی اس پوزیشن میں نہیں ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ کہیں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ 
بہت سی چھوٹی بڑی تبدیلیاں واقع ہوتی ہی رہتی ہیں، لیکن ہم جو تبدیلی چاہتے ہیں اس کے لیے ضروری ہے کہ دنیا یہ کہے کہ ہمارے سامنے ایک فکر آگئی ہے، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک متبادل پیش کیا جارہا ہے اور ایک نیا نقطہ نظر غورو فکر کی دعوت دے رہا ہے، اس کی بنیاد پر بھی دنیا کا نظام چل سکتا ہے۔ یہ سوال ابھی ہم نے نہیں کھڑا کیا ہے۔ میں آپ کی خدمات کا ہزار بار اعتراف کروں گا، لیکن اس واقعے سے آپ انکار نہیں کرسکتے کہ دنیا میں یہ سوال ابھی تک آپ نے کھڑا نہیں کیا ہے، جب کہ آپ کے پاس ایک مضبوط لٹریچر بھی ہے اور اس لٹریچر کی بنیاد پر یا اس نہج پر آپ اس سے بھی بڑا کام کرسکتے ہیں۔

مولانا سید جلال الدین عمری