Sunday, September 21, 2014

Dirty water raising health risk in flooded Kashmir

A Kashmiri man rows a makeshift raft carrying a woman and a child through the flood waters in Srinagar.

Lebanese Army soldiers carry parts of an Israeli drone



Lebanese Army soldiers carry parts of an Israeli drone in the Marjeyoun countryside, south Lebanon.

متناسب نمائندگی......

سن 1990ء کے عام انتخابات ہوئے، میاں نوازشریف کی قیادت میں اسلامی جمہوری اتحاد( آئی جے آئی) نے واضح اکثریت حاصل کی۔آئی جے آئی کو79 لاکھ8ہزار513 ووٹ ملے جبکہ بے نظیربھٹو کے پاکستان ڈیموکریٹک الائنس( پی ڈی اے) کے حصے میں 77 لاکھ 95 ہزار 218 ووٹ آئے۔ حیران کن امر یہ تھا کہ دونوں اتحادوں کے درمیان فرق محض ایک لاکھ 13 ہزار 295 ووٹوں کا تھا لیکن نشستوں کا فرق دوگنا سے بھی زیادہ تھا۔ آئی جے آئی کی سیٹیں111تھیں جبکہ پی ڈی اے کو محض44نشستیں ملیں۔
اس قدر بڑے فرق کا سبب کیاتھا؟ دھاندلی کی آوازیں ہمارے ہاں ہرالیکشن کے بعد سنائی دیتی رہی ہیں لیکن یہاں سبب دھاندلی نہیں تھا بلکہ ہمارے ہاں رائج انتخابی نظام تھا، جسے تناسبی اکثریت کا نظام (Plurality- majority voting) کہاجاتاہے۔آپ نے سناہوگا کہ ہمارے ہاں سیاست میں کامیابی کا بنیادی اصول ’لڑاؤ اور حکومت کرو‘ ہوتاہے، اگرہمارے ہاں مروجہ انتخابی نظام کا جائزہ لیاجائے تو اس میں بھی کامیابی کی بنیاد یہی اصول ہے۔
پاکستان میں مروجہ انتخابی نظام کے نقائص سے بہت سے اصحابِ دانش آگاہ ہیں، تاہم ایک نہایت کم پڑھے لکھے فرد کو بھی یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے، اس کے لئے ایک مثال کا سہارا لیناپڑے گا۔
فرض کریں کہ آپ کے انتخابی حلقے میں چارامیدوار الیکشن لڑرہے ہیں۔ ان میں سے ایک گرین پارٹی کا امیدوارہے، دوسرا ریڈ پارٹی کا، تیسرا ییلو پارٹی کا اور چوتھا بلیو پارٹی کا۔ اگر حلقہ میں کل ووٹ 100ہیں، گرین پارٹی کے امیدوار کو ملے20ووٹ، ریڈ پارٹی والے کو 10ووٹ، ییلو پارٹی والے کو 30ووٹ جبکہ بلیوپارٹی کے امیدوار کے حصے میں آئے40ووٹ۔ موجودہ انتخابی نظام کے تحت بلیو پارٹی کا امیدوار جیت جائے گا کیونکہ اس کے ووٹ باقی امیدواروں کی نسبت زیادہ ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ 40ووٹ لینے والے کو اکثریت حاصل نہیں ہوئی، حلقے میں اسے ناپسند کرنے والے لوگوں کی تعداد 60 ہے۔ سیدھا سادھا ایک مطلب یہ ہے کہ کامیاب فرد کو اپنے حلقے کے اکثرلوگوں کی حمایت حاصل نہیں ہے، اسے کامیابی صرف اس صورت میں ملی ہے کہ اس نے اپنے مخالفین کو تقسیم کردیاہے یا پھر وہ تقسیم ہوگئے ہیں۔
اب انتخابات2013ء ہی کا جائزہ لے لیاجائے، اس میں مسلم لیگ (ن) نے ایک کروڑ 48لاکھ 74ہزار ایک سو چار ووٹ حاصل کرکے قومی اسمبلی کی 126 نشستیں حاصل کیں جبکہ اس کی نسبت تقریباً آدھے ووٹ لینے والی تحریک انصاف کو محض28نشستیں ملیں۔
اگرعوامی حمایت کی بنا پر دیکھا جائے تو تحریک انصاف کو70 کے قریب نشستیں ملنی چاہیں تھیں۔ مزید حیران کن امر یہ ہے کہ تحریک انصاف کی نسبت کم ووٹ (69 لاکھ 11 ہزار 218) حاصل کرنے والی پیپلزپارٹی کو تحریک انصاف سے زیادہ سیٹیں(32)ملیں۔ انہی انتخابات میں متحدہ دینی محاذ نے ساڑھے تین لاکھ ووٹ حاصل کئے لیکن اس کے حصے میں ایک بھی نشست نہ آئی۔ دوسری جانب آفتاب احمد شیرپاؤ کی جماعت قومی وطن پارٹی کے مجموعی ووٹ 47ہزارتھے لیکن اسے قومی اسمبلی میں ایک نشست مل گئی۔
اس نظام کے مخالفین کہتے ہیں کہ یہ نظام حقیقتاً ’لڑاؤ اور حکومت کرو‘ پر ایمان رکھنے اور عمل کرنے والوں کے لئے ہی مفید ہے۔ جاگیرداروں، وڈیروں اور سرمایہ داروں کی زندگی اسی نظام میں مضمر ہے۔ مخالفین نہ صرف اسے عوام کی رائے کا مظہر نہیں مانتے بلکہ اسے غیراسلامی بھی کہتے ہیں۔ کیونکہ پاکستان کی فیڈرل شریعت کورٹ میں 1988ء کے انتخابات کے بعد بہت سی درخواستیں موجودہ نظام انتخابات اور انتخابی قوانین کو کالعدم قرار دینے کیلئے دائر کی گئیں اور ان درخواستوں کے دلائل کی بنیاد پر فیڈرل شریعت کورٹ نے بھی اس نظام انتخاب کو قرآن و سنت کے اصولوں کے خلاف قرار دیا
تھا۔
ان درخواستوں میں یہ موقف اختیارکیاگیاتھا کہ موجودہ نظام انتخاب میں انتخابی مہم ایک میلے یا سرکس کے انداز میں چلائی جاتی ہے۔ ہر امیدوار اپنی ذات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتاہے، مخالف امیدوار کی کردار کشی کرتا ہے۔ کامیابی کے لئے لالچ، دھونس، دھمکی اور جھوٹے وعدوں کاسہارا لیاجاتاہے۔ امیدوار کی بینروں، پوسٹروں اور پلے کارڈوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر جھوٹی تشہیر کی جاتی ہے۔ مہنگی گاڑیوں اور ٹرکوں پر سوار کرائے کے رضاکاروں کے جلوس سڑکوں پر محلے محلے اور گاؤں گاؤں نعرے لگاتے ہوئے گشت کرتے اور ووٹروں کی حمایت حاصل کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ امیدوار کی اپنی خواہش اور اس کے بھاری خرچ پر ہوتا ہے۔ حمایت حاصل کرنے کے لئے علاقائی، فرقہ وارانہ، قبائلی اور اس طرح کے دوسرے تعصبات کو استعمال کیا جاتا ہے، بوگس اور جعلی ووٹ بھگتانا معمول کی بات ہے۔ بالآخر جو سب سے اونچے داؤ لگا کر یہ کھیل کھیلتا ہے وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔
یقینا موجودہ انتخابی نظام میں ایک امیدوار قلیل حامیوں کے ساتھ جیت جاتاہے۔ انتخابات 2013ء میں قومی اسمبلی کے 138ارکان ایسے ہیں جنھوں نے اپنے حلقہ میں پچاس فیصد سے کم ووٹ حاصل کئے لیکن انھیں کامیابی نصیب ہوئی۔ موجودہ پارلیمان میں ایسے ارکان بڑی تعداد میں موجود ہیں جو اپنے حلقوں میں کل رجسٹرڈ شدہ ووٹوں کا صرف 20سے30فیصد ووٹ حاصل کرپائے۔ ان انتخابات میں وہی تماشے دیکھنے کو ملے ہیں جو تناسبی اکثریت کے نظام کا لازمی نتیجہ ہوتے ہیں۔ بعض ایسے حلقے ہیں جہاں ٹرن آؤٹ 80فیصد سے زیادہ رہا لیکن ایسے بھی حلقے ہیں جہاں 20سے30فیصد رہا۔یہ ایسے انتخابات تھے جس میں حصہ لینے والے امیدواروں نے آئین کی ان دفعات کا کھلم کھلامذاق اڑایا جنھوں نے امیدواروں کو چھانٹنے کے لئے چھلنی کا کام دیناتھا۔کہاگیا کہ اگران دفعات کو خاطر میں لایاگیاتو کوئی بھی پارلیمان میں نہیں پہنچ سکے گا۔
اسی دنیا میں ایک دوسرا نظام بھی موجود ہے جسے متناسب نمائندگی کا نظام کہاجاتاہے۔دنیا بھر کے ماہرین اس امر پر متفق ہیں کہ متناسب نمائندگی کا نظام زیادہ جمہوری ہے، اس میں قوم کی خواہش اور پارٹیوں کی معاشرے میں حمایت زیادہ واضح انداز میں سامنے آتی ہے۔ مثلاً اگرکسی پارٹی کا ووٹوں میں حصہ 30فیصد ہے، تو اس کی پارلیمان میں بھی نشستیں 30فیصد ہی ہوں گی۔ پارلیمان میں نمائندگی کی شرط اول صرف اور صرف اکثریت ہوتی ہے یعنی 50 فیصد سے زیادہ۔ اگرایک حلقے میں لوگ اس اندازمیںتقسیم ہوجائیں کہ کوئی بھی50 فیصد ووٹ حاصل نہ کرے تو چوٹی کے دوامیدواروں میں پھر مقابلہ ہوتا ہے، ان میں سے یقینی طورپر کوئی ایک 51 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔
یہ نظام اس وقت دنیا کے 80سے زائد ممالک میں مختلف صورتوں میں ر ائج ہے۔ ان میں آسٹریا، ہنگری، سوئٹزرلینڈ، شمالی یورپ، بلجیئم، ہالینڈ، ڈنمارک، ناروے، سویڈن، جرمنی، فرانس، ترکی اور سری لنکابھی شامل ہیں۔ ہرملک نے اپنے مخصوص حالات کو دیکھتے ہوئے، ضرورت کے مطابق اس نظام میں تبدیلیاں کی ہوئی ہیں۔ مقصد اس نظام کو زیادہ سے زیادہ جمہوری ، صاف وشفاف بناناہوتاہے۔
متناسب نمائندگی کے بیش بہافوائد ہیں۔ مثلاً اس نظام کی بدولت انتخابات روپے پیسے کا کھیل نہیں بنتے۔ سبب یہ ہے کہ مقابلہ حلقہ وار امیدواروں کے بجائے جماعتوں اور پارٹیوں کے درمیان ہوتا ہے۔ ہرجماعت انتخابی مہم کے دوران اپنا منشور پیش کرتی ہے، قوم جماعتوں کے منشور اور کارکردگی کے مطابق اپنافیصلہ سناتی ہے۔ جس جماعت کو جتنے زیادہ ووٹ ملتے ہیں، اسی تناسب سے اسے اسمبلیوں میں سیٹیں الاٹ کردی جاتی ہیں۔ مثلاً اگر ایک لاکھ ووٹ کا مطلب ایک سیٹ ہوتو جو جماعت بیس لاکھ ووٹ لے گی، اسے اسمبلی میں بیس نشستیں مل جائیں گی۔ سیاسی جماعتیں ووٹنگ کے عمل سے پہلے ایک مقررہ تاریخ تک اپنے امیدواروں کی لسٹیں الیکشن کمیشن کو فراہم کردیتی ہیں، انتخابی نتائج کے بعد الیکشن کمیشن مذکورہ جماعت کی نشستوں کے مطابق فہرست میں بالترتیب ناموں کو پارلیمان کی رکنیت فراہم کردیتا ہے۔ یادرہے کہ الیکشن کمیشن ایسے ناموں کی فہرستیں موصول ہونے کے بعد ان تمام افراد کو اپنے آئین میں درج شرائط رکنیت کے مطابق پرکھتا ہے، جو پورا اترتاہے، رکنیت کا استحقاق اسے ہی ملتاہے۔
اس نظام انتخاب کا فائدہ یہ بھی ہے کہ پارلیمان تانگہ پارٹیوں سے نجات حاصل کرلیتی ہے کیونکہ ہرجماعت کا ایک خاص تعداد میں ووٹ لیناضروری ہوتاہے۔ یہ خاص تعداد کتنی ہوتی ہے، مختلف ممالک نے اپنے حالات کے مطابق اس کی شرح متعین کررکھی ہے۔بعض ممالک میں یہ فہرستیں ووٹروں کے سامنے بھی پیش کی جاتی ہیں، وہی فیصلہ کرتے ہیں کہ ان کی پسندیدہ جماعت کے کون سے لوگوں کو پارلیمان میں جانا چاہئے۔اس نظام کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ جماعتی وفاداریوں کی خرید و فروخت کی لعنت سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔
متناسب نمائندگی میں حلقہ وسیع وعریض ہوتاہے، اس لئے انتخابی نظام اور پھر اس کے نتیجے میں جنم لینے والاسیاسی نظام بہت سی عصبیتوں سے نجات پالیتاہے۔ جماعتیں ایک مخصوص علاقے یا خطے کی بنیادپراپنا پروگرام ترتیب نہیں دے سکتیں بلکہ انھیں پورے ملک اور پوری قوم کو سامنے رکھ کر اپنا پروگرام وضع کرناپڑتاہے۔ پاکستان کے موجودہ انتخابی نظام میں آپ نے اکثردیکھاہوگا کہ بعض حکومتیں اپنی مرضی سے اس اندازمیں حلقہ بندی کرتی ہیں جو ان کے فائدہ میں ہوتی ہیں اور مخالفین کے لئے نقصان دہ۔ تاہم متناسب نمائندگی کا نظام ایسی بدعنوانیوں کو روکتاہے۔ اسی طرح اس میں ضمنی انتخابات وغیرہ کا جھنجٹ بھی ختم ہو جاتاہے، اگرکسی جماعت کا کوئی رکن انتقال کر جاتاہے، یا کسی بھی طرح رکن پارلیمان نہیں رہتاتو پارٹی کی فہرست میں سے اگلے نام کو پارلیمان کی رکنیت کا حق دیدیاجاتاہے۔ یوں ضمنی انتخابات پر خرچ ہونے والا پیسہ بچ جاتاہے۔
اس وقت دنیا میں متناسب نمائندگی کی تین اقسام رائج ہیں:
1۔ پارٹی لسٹ سسٹم
جن ممالک میں متناسب نمائندگی کا نظام رائج ہے، ان میں 80فیصد ممالک میں پارٹی لسٹ ووٹنگ کا طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے۔ یہ نظام نہ صرف زیادہ تر یورپی ممالک میں بلکہ نئی جمہوریتوں بالخصوص جنوبی افریقہ میں بھی رائج ہے۔ اس میں ایک سے زیادہ نشستوں والے حلقے ہوتے ہیں۔ آزاد امیدوار بھی حصہ لیتے ہیں، اگروہ بھی ایک خاص شرح کے مطابق ووٹ حاصل کرلیتے ہیں تو وہ بھی پارلیمان میں پہنچ جاتے ہیں۔ بیلٹ پیپر میں ووٹر اپنی پسند کی جماعت کے نام ونشان پرمہرلگاتاہے۔ اگرایک حلقے میں دس سیٹیں ہیں، اور کسی جماعت نے 40فی صد ووٹ حاصل کرلئے ہیں تو اسے چار نشستیں حاصل ہوں گی، الیکشن کمیشن اس جماعت کی فراہم کردہ فہرست کے مطابق پہلے چارناموں کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کردے گا۔
اس میں فہرستوں کی دو اقسام ہوتی ہیں، کلوزڈ لسٹ سسٹم اور اوپن لسٹ سسٹم۔کلوزڈ لسٹ سسٹم میں ووٹر صرف جماعت ہی کو ووٹ ڈالتاہے، بیلٹ پیپر پر کسی امیدوار کا نام درج نہیں ہوتا۔ چنانچہ جماعت کی پہلے سے الیکشن کمیشن کو فراہم کردہ فہرست میں سے ناموں کی کامیابی کا اعلان کرتاہے۔ تاہم زیادہ تر یورپی ممالک میں کلوزڈلسٹ کی بجائے اوپن لسٹ سسٹم رائج ہے۔ اس طریقہ کار میں بیلٹ پیپر پر ہرجماعت اس حلقہ سے اپنے امیدواروں کے نام بھی درج کردیتی ہے۔ مثلاً ایک حلقہ چھ ارکان پر مشتمل ہے تو بیلٹ پیپر پر ہرجماعت کا ایک خانہ ہوگا اور اس خانہ میں اس کے چھ امیدواروں کے نام بھی درج ہوں گے۔ ووٹر کے پاس اختیارہوتاہے کہ وہ ایک پارٹی کے کسی امیدوار کے حق میں نہیں تو وہ اس کے بجائے کسی دوسری پارٹی کے امیدوارکا انتخاب کرسکتاہے۔ ان امیدواروں کو ملنے والے ووٹ ان کی جماعتوں کو مل جاتے ہیں۔ یہ نظام فن لینڈ جیسے ممالک میں رائج ہے۔
اس نظام میں جماعتوں کو نشستیں دینے کے متعددفارمولے ہیں۔ آسان ترین فارمولا یہ ہے کہ ووٹوں کی ایک خاص شرح کے عوض ایک نشست دی جاتی ہے۔ مثلاً اگر50 ہزار ووٹوں کا مطلب ایک نشست ہے اور کسی جماعت نے تین لاکھ 75ہزار ووٹ حاصل کئے ہوں تو اسے پہلے مرحلے میں فوراً سات نشستیں فراہم کردی جائیں گی جبکہ باقی ماندہ 25ہزار ووٹ اس پارٹی کے ایک دوسرے کھاتے میں درج ہوجائیں گے۔ بعد ازاں سب پارٹیوں کے باقی ماندہ ووٹوں کی بناء پر بچ جانے والی سیٹوں کا فیصلہ کیاجاتاہے، جس نے زیادہ باقی ماندہ ووٹ لئے ہوں گے، اسے سیٹ مل جائے گی۔ اگرایک سے زیادہ سیٹیں باقی ماندہ ہوں تو وہ بالترتیب زیادہ باقی ماندہ ووٹ حاصل کرنے والوں کو مل جائیں گی۔
اس طریقہ انتخاب کی بدولت پارٹیوں کو پارلیمان میں ٹھیک ٹھیک نمائندگی ملتی ہے، ووٹرز کو انتخاب کے زیادہ بہترمواقع میسر ہوتے ہیں، ٹرن آؤٹ بڑھتاہے، ووٹوں کا ضیاع کم سے کم ہوتاہے۔ اسی طرح یہ نظام مصنوعی اکثریت سازی کی راہ میں بھی رکاوٹ بنتاہے اور من پسند حلقہ بندیاں بھی قائم نہیں ہونے دیتا۔ مزیدبرآں یہ چھوٹی جماعتوں، نسلی اقلیتوں اور خواتین کو بھی ٹھیک ٹھیک نمائندگی دیتاہے۔
پارٹی لسٹ سسٹم البانیہ، الجزائر، انگولا، آسٹریا، ارجنٹائن، اروبا، بلجئیم، بوسنیا ہرزگوینا، برازیل، بلغاریہ، بورقینہ فاسو، برونڈی، کمبوڈیا، کیپ وردی، کولمبیا، کوسٹاریکا، کروشیا، کوراساؤ، قبرص، چیک ریپبلک، ڈنمارک، ڈومینیکن ریپبلک، ایکواٹوریل گنی، اسٹونیا فن لینڈ، گنی بساؤ، گیانا، ہانگ کانگ، آئس لینڈ، انڈونیشیا، عراق، اسرائیل، اٹلی، لٹویا، لائبریا، لیختنشٹائن،لکسمبرگ،مالڈووا، مونٹی نیگرو، مراکش،نیمبیا، نیپال، ہالینڈ، نیوکالیڈونیا، نکاراگوئے، پیرو، پولینڈ، روس، سان مارنیو، ساؤٹوم اینڈ پرنسیپی، سینٹ مارٹن، سلوواکیا، سلووانیا، جنوبی افریقہ، سپین، سری لنکا، سورینیم، سویڈن، سوئٹزرلینڈ، تیونس، ترکی، یوراگوئے اوروالیس اینڈ فوٹونیا میں رائج ہے۔
2۔ سنگل ٹرانسفرا یبل ووٹ یا چوائس ووٹنگ
اس نظام کومختلف ممالک میں مختلف نام دئیے گئے ہیں مثلاً آسٹریلیا میں ہیرکلارک سسٹم اور امریکا میں چوائس ووٹنگ۔ اس وقت یہ سسٹم آئرلینڈ اور مالٹا میں رائج ہے۔ آسٹریلیا میں اس کے ذریعے فیڈرل سینیٹ منتخب کی جاتی ہے۔ یہ طریقہ کار بھی متناسب نمائندگی ہی کا حصہ ہوتاہے۔ اس میں تمام کے تمام ووٹ امیدواروں کو ملتے ہیں، جماعتوں کو نہیں۔ ووٹ ٹرانسفر ایبل ہوتاہے، ووٹر اپنی پہلی اور دوسری ترجیح کے طورپراپنے امیدواروں کی نشان دہی کرتاہے۔ اس طریقہ کار میں امیدوار کو ووٹوں کی ایک خاص شرح حاصل کرناہوتی ہے۔ اگر ووٹر کا پہلا ترجیحی امیدوار اس شرح کے مطابق ووٹ حاصل کرلیتاہے تو پھر ووٹرکا ووٹ خودبخود دوسرے ترجیحی امیدوار کے حق میں شمار ہوجاتاہے۔ امیدوار تیسرے ترجیحی امیدوار کا تعین بھی کرتاہے۔ اس نظام کا فائدہ یہ ہوتاہے کہ ووٹرکاووٹ ضائع نہیں ہوتا۔مالٹا اور شمالی آئرلینڈ میں یہ نظام رائج ہے، آسٹریلیا اور بھارت میں صرف سینیٹ(ایوان بالا) جبکہ آئرلینڈ میں ایوان زیریں کے لئے اس نظام سے استفادہ کیاجاتاہے۔
3۔ مکسڈ ممبر سسٹم
اگرچہ یہ متناسب نمائندگی ہی کی قسم ہے لیکن اسے نیم متناسب نمائندگی بھی کہاجاسکتاہے۔ اسے ’ایڈیشنل ممبر سسٹم‘ ،’ ٹو ووٹ سسٹم‘ یاپھر ’جرمن سسٹم‘بھی کہاجاتاہے۔ اس طریقہ کار کے مطابق پارلیمان کے آدھے ارکان کا انتخاب حلقوں میں یک رکنی انتخاب کے تحت ہوتا ہے جبکہ باقی آدھے ارکان پارٹی لسٹ کے مطابق منتخب ہوتے ہیں۔ یہ طریقہ کار دوسری جنگ عظیم کے فوری بعد مغربی جرمنی میں اختیارکیاگیا، اس کے بعد بولیویا اور وینزویلا سمیت بعض دوسرے ممالک میں بھی اسے اپنالیاگیا۔ تاریخ کے اگلے مراحل میں نیوزی لینڈ اور ہنگری نے اس نظام کو اختیارکیا۔ یہ نظام حال ہی میں سکاٹ لینڈ اور ویلز میں بھی رائج کیا گیا۔
اس طریقہ کا رمیں لوگ دوخانوں والا بیلٹ پیپر استعمال کرتے ہیں۔ ایک خانے میں مختلف پارٹیوں کے ایک ایک امیدوار کا نام درج ہوتاہے، ان میں سے کسی ایک کو پارلیمان میں بھیجنے کیلئے منتخب کرناہوتاہے(جیسا کہ پاکستان میں نظام رائج ہے) جبکہ دوسرے خانے میں مختلف جماعتوں کے نام درج ہوتے ہیں، ووٹرکو ان میں سے کسی ایک پر مہرثبت کرناہوتی ہے۔ اس خانے کے ذریعے تعین ہوتاہے کہ کس جماعت کو پارلیمان میں کتنا حصہ ملناچاہئے۔
جرمنی میں پارٹی لسٹ کلوزڈ ہوتی ہے اور گنتی قومی سطح پر ہوتی ہے۔دنیا میں بعض قوموں نے اپنے ہاں نظام کو مزید مفید اور قومی امنگوں کے مطابق بنانے کیلئے اس میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں۔ مثلاً جرمن ورژن میں وہی جماعت پارلیمان میں داخل ہوسکے گی جس نے مجموعی طورپر پانچ فیصد ووٹ حاصل کئے ہوں یا پھر کم ازکم تین حلقوں میں دوڑ جیتی ہو۔ اس نظام کافائدہ یہ ہے کہ ہرعلاقے کو پارلیمنٹ میں لازمی نمائندگی ملتی ہے۔ وینزویلا، تھائی لینڈ، تائیوان، جنوبی کوریا، رومانیہ، نیوزی لینڈ، میکسیکو، لیسوتھو،جاپان، ہنگری، جرمنی، جمہوریہ کانگو اور بولیویا میں یہ نظام رائج ہے۔
متناسب نمائندگی کے نظام میں ایسا بھی ہوتاہے کہ پورا ملک ہی ایک حلقہ متصور ہوتا ہے اور ہرصوبہ بھی ایک حلقہ بن سکتاہے۔ عام طورپر جن ممالک میں متناسب نمائندگی کا نظام رائج ہے، وہاں صوبے زیادہ بڑے نہیں ہوتے اور ہرصوبہ کو ایک حلقہ تصور کیاجاتاہے۔ اگرکسی صوبے میں دس نشستیں ہیں، وہاں کسی جماعت نے پچاس فیصد ووٹ حاصل کرلئے، تو وہاں اسے پانچ نشستیں مل جائیں گی۔
پاکستان میں متناسب نمائندگی نظام اختیارکرنے کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں میں جماعت اسلامی، تحریک استقلال، پاکستان عوامی تحریک شامل ہیں۔ اول الذکر دونوں جماعتیں ستر کی دہائی سے یہ مطالبہ کررہی ہیں۔ ان دنوں ملک میں انتخابی اصلاحات کا مطالبہ عام ہورہاہے ، جماعت اسلامی نے ایک بار پھر زوروشور سے اپنا پرانا مطالبہ دوہرانا شروع کر دیاہے۔دوسری طرف پاکستان عوامی تحریک بھی چندبرسوں سے یکسو ہوچکی ہے کہ موجودہ نظام اسلامی تصورِ نمائندگی کے سراسر خلاف ہے،اس کے ذریعے عوامی اکثریت کی نمائندہ حکومت تشکیل نہیں پاتی، سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے، دھن، دھونس اور دھاندلی کا آزادانہ استعمال ہوتاہے، نااہل اور مفاد پرست افراد منتخب ہوتے ہیں، اس سے علاقائی اور فرقہ وارانہ کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوتاہے،کمزور حکومتیں تشکیل پاتی ہیں اور سیاسی نظام میں عدم استحکام رہتاہے۔ اس نظام میں نمائندوں کا احتساب ممکن نہیں، نتیجتاً عوام اور رائے دہندگان کی عدم دلچسپی ایک سنگین مسئلہ بن جاتی ہے۔ یہ نظام قومی مسائل حل کرنے میں ناکام ثابت ہوتاہے۔
یقینا اس وقت مغربی دنیا کے کئی ممالک میں تناسبی اکثریت کا نظام رائج ہے تاہم وہ بھی اب متناسب نمائندگی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ بعض ممالک میں متناسب نمائندگی کو مکمل طورپر اختیارکرلیاگیا ہے تاہم بعض ابھی تک اس نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ مغربی دنیا کے موقرجریدے’دی اکانومسٹ‘ نے1991ء میں اپنے ایک اداریہ میں لکھاتھا: ’’موجودہ فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ سسٹم غیرجمہوری ہے، صرف اسی ایک بنیادپر اس کی جگہ کوئی دوسرا نظام لانے کی ضرورت ہے‘‘۔ صرف اکانو مسٹ ہی نہیں ، متعدد مغربی ماہرین بھی اپنے معاشروں میں یہی نظام اختیارکرنے پر زوردے رہے ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم ابھی سے ہی اس نظام کواختیارکرلیں؟ کیا ضروری ہے کہ جب پورا مغرب اس نظام کو اختیارکرلے، پھر ہم اس کیلئے سوچناشروع کریں؟ آخرہرکام میں دیرکیوں؟
متناسب نمائندگی پر اعتراضات
بعض حلقے کہتے ہیں کہ متناسب نمائندگی کے نتیجے میں بعض سنگین خرابیاں بھی جنم لیتی ہیں مثلاً :
٭پارٹی لیڈر سارے اختیارات کا محور ومرکز بن جاتاہے، وہ جسے چاہے گا پارلیمنٹ کے لئے نمائندگی دے گااور وہ سیٹیں نیلام کرے گا۔ تاہم یہ اعتراض اس اعتبار سے بہت کمزور ہے کہ دوسرے نظام ہائے انتخاب میں بھی پارٹی لیڈر اختیارات کا گھنٹہ گھر بن سکتاہے، وہ نشستیں بھاری بھرکم رقم کے عوض فروخت کرتاہے۔ آپ پاکستان کے موجودہ انتخابی نظام ہی پر ایک نظر ڈال لیں۔ یہ شکایت اس میں بھی عام ہے۔ یہ خرابی صرف ایک صورت میں ختم ہوسکتی ہے کہ پارٹیوں کے اندر بھی جمہوریت ہو۔ صرف وہی پارٹی انتخاب میں حصہ لینے کی اہل ہوجو باقاعدہ ’’انٹرا پارٹی الیکشن‘‘ کرائے اور اس کی نگرانی بھی الیکشن کمیشن کرے۔ پارٹیاںکسی کی جاگیر نہیں ہونی چاہئیں یعنی باپ کے بعد بیٹا یا بیٹی سربراہ نہ بن بیٹھے۔
٭کہا جاتا ہے کہ متناسب نمائندگی کے ذریعے غیر مستحکم اور مخلوط حکومتیں قائم ہوتی ہیں۔ یہ اعتراض بھی زیادہ قوی نہیں ہے کیونکہ موجودہ نظام انتخاب کے نتیجے میں بھی کمزور حکومتیں تشکیل پاتی ہیں۔ اصل معاملہ اصولوں کی پاسداری کا ہوتاہے، جن معاشروں میں اصولوں کو اہمیت دی جاتی ہے، وہاں ایک سیٹ کی اکثریت سے بھی حکومتیں اپنی مدت پوری کرتی ہیں ورنہ دوتہائی اکثریت کی حامل حکومتیں بھی غیرمستحکم ہوجاتی ہیں۔ جب ’رن آف‘ یا ’ٹو راؤنڈ سسٹم‘ ہوگاتوممکن ہی نہیں ہے کہ مخلوط حکومتیں قائم ہوں۔ ووٹنگ کا یہ نظام مصر، افغانستان، فرانس اور انڈونیشیا میں رائج ہے۔ اس نظام میں اگر پہلے مرحلے میں کوئی امیدوار50 فیصد سے زائد ووٹ حاصل نہ کرسکے تو زائد ووٹ حاصل کرنے والے دو سرفہرست امیدواروں کے درمیان انتخابات کا دوسرا مرحلہ ہوتا ہے۔ظاہرہے کہ اس میںکسی نہ کسی کو اکثریت نصیب ہوجاتی ہے۔
ووٹنگ سسٹم کوئی بھی ہو، اس میں خرابیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک اس نظام کو شفاف اور سستا نہ بنایاجائے،حکومتی حلقوں اور بڑے طبقات، سرمایہ داروں کے ناجائز اثرو رسوخ سے الیکشن کمیشن کی آزادی بھی ضروری ہے۔ جعلی شناختی کارڈ سازی، جعلی ووٹ سازی، جانبدارانہ حلقہ بندیوں و پولنگ سکیمز، الیکشن عملہ کی ملی بھگت اور پولیس انتظامیہ و غنڈہ عناصرکی ناجائز مداخلت روکنا بھی ضروری ہے، تشہیر، جلسوں، ٹرانسپورٹ، الیکشن کیمپوں کے اخراجات کو کم سے کم کرکے انتخابات کو روپے پیسے کا کھیل بننے سے روکا جاسکتاہے۔ سیاسی جماعتیں تمام تر مصلحتوں سے بالاتر ہوکر غریب و متوسط باصلاحیت کارکنان کو میرٹ پر اسمبلیوں میں نمائندگی کے لئے نامزد کریں۔ متناسب نمائندگی کا نظام سستا نظام بننے کی زیادہ صلاحیت رکھتاہے اور اس میں مذکورہ بالا تمام خرابیوں کے امکانات کم سے کم ہوتے ہیں۔
دو معروف انتخابی نظام
دنیا میں دو ہی انتخابی نظام زیادہ معروف اور مروج ہیں، ایک تناسبی اکثریت (Plurality-majority voting) کا، جس میں زیادہ امیدواروں میں سے جو بھی زیادہ ووٹ حاصل کرلے، اسے کامیاب مانا جاتا ہے۔ چاہے مقابلے میں موجود تمام امیدواروں کو حاصل شدہ ووٹوں کا مجموعہ اس امیدوار سے زیادہ ہو۔
پاکستان سمیت 49ممالک میں یہ نظام رائج ہے۔ دیگر ممالک میں آذربائیجان، بنگلہ دیش، کینیا، کویت، لبنان، ملاوی، سموا، سنگاپور، سولومن آئی لینڈ، جنوبی کوریا،بہاماس، انٹیگوا اینڈ باربوڈا،بارباڈوس، بیلٹز، بھوٹان، بوٹسوانا، کینیڈا، ڈومینیکا، ایتھوپیا، گیمبیا، گھانا، گریناڈا، ملائیشیا، میکسیکو، فیڈریٹڈ سٹیٹس آف مکرونشیا، مراکش، نیپال، نائیجیریا، پالاؤ، پاپوانیوگنی، فلپائن، زیمنیا، یمن، امریکا، برطانیہ، یوگینڈا، تووالو،ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو، ٹونگا، تنزانیہ،سوئٹزرلینڈ، بھارت، ایران، جمیکا، زمبابوے، سینٹ لوشیا اور سینٹ کٹس اینڈ نیواس شامل ہیں۔
تاہم ترقی یافتہ مغربی ممالک میں اس نظام کو نامناسب سمجھاجاتاہے، وہاں متناسب نمائندگی کا نظام رائج ہے۔ یورپ میں 28ممالک میں سے 21ممالک میں متناسب نمائندگی کے تحت انتخابات ہوتے ہیں۔ یادرہے کہ مذکورہ بالابعض ممالک میں متناسب نمائندگی کے نظام ساتھ ساتھ تناسبی اکثریت کا نظام بھی رائج ہے۔
متناسب نمائندگی کی تاریخ
متناسب نمائندگی کی سب سے پہلے تجاویز دینے والوں میں جان ایڈمز کا ذکر ملتاہے۔ یہ تجاویز انھوں نے اپنے ایک پمفلٹ ’’Thoughts on Government‘‘ کی صورت میں پیش کیں۔ انھوں نے نارتھ کیرولینا کی صوبائی کانگریس کی درخواست پر سن 1776ء میں یہ تجاویز تیارکیں۔ بعدازاں یہی جان ایڈمز پہلے امریکی صدر جارج واشنگٹن کے بعد امریکا کے صدر بھی منتخب ہوئے۔
برطانیہ سے آزادی کی جدوجہد میں پیش پیش لوگوں میں وہ بھی شریک تھے، اس لئے انھیں بھی امریکا کے بانیوں میں شمار کیا جاتاہے۔نارتھ کیرولینا کے پہلے آئین کی بنیاد یہی پمفلٹ بنا۔وہ قانون سازی کیلئے دو ایوانوں کی تشکیل ضروری خیال کرتے تھے کیونکہ اس طرح دونوں ایوان ایک دوسرے پر چیک رکھ سکتے ہیں۔ “Thoughts on Government” میں انھوں نے لکھا کہ نمائندگی برابری کی بنیادپر ہونی چاہئے، جب بات عوام کی نمائندگی کی ہو تو لوگوں کی چھوٹی سے چھوٹی شبیہہ بھی بڑی تصویر میں موجود ہونی چاہئے۔
پارلیمان میں داخلہ کا کم ازکم معیار
مختلف ممالک میں کسی بھی پارٹی کے لئے پارلیمان میں داخل ہونے کیلئے کم ازکم ووٹوں کی ایک شرط بھی عائد کی گئی ہے۔ مثلاً ترکی میں جو پارٹی کل ڈالے گئے ووٹوں میں سے 10فیصد ووٹ حاصل کرے گی ، وہی پارلیمان میں داخلہ کی حق دار ہوگی۔ دنیا میں کہیں بھی یہ سب سے کڑا معیار ہے۔
لیختنشٹائن میں8فیصد، روس میں7فیصد، مراکش میں 6فیصد، سلواکیا،رومانیا، نیوزی لینڈ، لٹویا، بلجئیم، جرمنی، اسٹونیا، کروشیا اور چیک ری پبلک میں 5فیصد، اٹلی، بلغاریہ، آسٹریا، سلوانیا میں 4فیصد، سویڈن میں قومی سطح کے لئے یہ شرح 4فیصد جبکہ ضلعی سطح کے لئے 12فیصد ہے۔،جنوبی کوریا میں 3فیصد جبکہ سپین میں چھوٹے حلقوں میں یہ شرح3فیصد ہے۔ دنیا میں سب سے کم شرح اسرائیل میں ہے یعنی2فیصد ۔
عبید اللہ عابد

Saturday, September 20, 2014

اب عمران خان کیا کریں گے؟.......


عمران خان کو اپنا آزادی مارچ اسلام آباد لائے ہوئے ایک مہینے سے زیادہ ہوگیا ہے۔ شام کے وقت جمع ہونے والے لوگوں کی تعداد میں بتدریج کمی ہوتی جارہی ہے، جبکہ تقاریر کا سخت ہوتا ہوا لہجہ بڑھتے ہوئے ہیجان کا پتہ دے رہا ہے۔ امیدیں اور وعدے اب بے چینی میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
اگر طاہر القادری کے حامی شارع دستور پر پڑاؤ ڈالے ہوئے نا ہوتے، تو یہ سب ابھی اور بھی پھیکا ہوتا۔ لیکن عمران خان اب بھی ہتھیار ڈالنے کو تیار نہیں ہیں، بلکہ لگتا یہ ہے کہ وہ اس لڑائی کو اب تلخ اختتام پر لے جانے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ رسک زیادہ ہے، اور آپشن کم رہ گئے ہیں۔ تو، اب عمران خان کیا کریں گے؟
کرکٹ کے برعکس سیاست میں کوئی بھی ہار جیت حتمی نہیں ہوتی۔ بلکہ طاقت کے اس کھیل میں ہار جیت نام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں ہوتی۔ ہر نئے دن جیت کی ایک نئی کشمکش۔ پر کرکٹ کو سیاست کے ساتھ ملا دینے کا خیال کوئی بہت اچھا نہیں رہا ہے۔ عمران خان کی خود پسندی، ضد، اور حساب کتاب میں گڑبڑ ان کی غلطیاں ثابت ہوئی ہیں۔

وہ مزید چیزیں داؤ پر لگائے جارہے ہیں، جبکہ وہ انتخابی اصلاحات، اور انتخابات کی تحقیقات کی حکومتی پیشکش کو تسلیم کر کے جیت سکتے تھے۔ لیکن اپنے بے منطق کے اقدامات کی وجہ سے وہ اب اپنی اس پارٹی کے سیاسی مستقبل کو خطرے میں ڈال چکے ہیں، جس نے تعلیم یافتہ شہری مڈل کلاس کو سیاسی قوت میں بدل کر پاکستان کی سیاست پر گہرا اثر چھوڑا تھا۔

یہ حقیقت ہے، کہ پاکستان تحریک انصاف کی کرپشن، موروثی سیاست، اور قانون کی خلاف ورزی کے خلاف چلائی جانے والی مہم نے عوام کی اکثریت کو متاثر کیا ہے۔ یہی وہ وجہ تھی، کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں نے پی ٹی آئی پر اعتماد کیا، کیونکہ لوگوں کے نزدیک یہی جماعت باریاں لینے والی دوسری جماعتوں سے مختلف تھی۔ لیکن ایک جس چیز جس کی کمی ہمیشہ سے رہی ہے، وہ ہے تبدیلی کا وژن، اس تبدیلی کا جس کا وہ بار بار وعدہ کرتے ہیں۔

ان کے تیز طرار بیانات اب صرف کھوکھلی باتوں میں بدل گئے ہیں۔ اہم سیاسی، سماجی، اور اقتصادی معاملات پر ان کے خیالات ان کے تبدیلی کے نظریے سے میل نہیں کھاتے۔ ان کا سیاسی پہلو کافی قدامت پسند ہے، اور وہ ملک کو پیچھے لے جانا چاہتے ہیں۔ عسکریت پسندی اور طالبان پر ان کا مؤقف کافی پریشان کن رہا ہے۔ وہ پر کشش تو ہیں، لیکن ان میں وہ بات نہیں پائی جاتی، جو تبدیلی لانے والے لیڈروں میں ہوتی ہے۔ اور اس بات کا ثبوت ان کے حالیہ اقدامات ہیں۔
یہ یقینی ہے کہ پی ٹی آئی کے اس دھرنے نے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کو ان کی گہری نیند سے جگا دیا ہے، اور یقین دہانی کرا دی ہے کہ عوام اب اس سسٹم سے تنگ آچکے ہیں۔ پارلیمنٹ کے سامنے ایک مہینے سے جاری دھرنا پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک بے مثال باب ہے۔ نتیجتاً پارلیمنٹ کو بھی سسٹم بچانے کے لیے تمام سیاسی قوتوں سے مدد لینی پڑی ہے۔

لیکن حالیہ دھرنوں نے پی ٹی آئی کی سیاسی ناپختگی، اور موقع پرستی کو ظاہر کردیا ہے۔ پارٹی نے اپنی پوری اسٹریٹیجی صرف یا تو امید پر قائم رکھی، یا کسی تیسری قوت کی جانب سے شریف حکومت کے خاتمے کی یقین دہانی پر۔ اور جس وقت آرمی چیف ثالث کا کردار ادا کرنے کے لیے منظرنامے میں داخل ہوئے، تو شاید جیت کی امید مضبوط ہوئی تھی، پر یہ امید زیادہ دیر تک قائم نہیں رہی۔
پی ٹی آئی کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی، کہ اسے لگا کہ وہ لاکھوں لوگوں کو متحرک کر کے اسلام آباد لانے میں کامیاب ہوجائے گی۔ پر ایسا نہیں ہوا۔ لاہور سے اسلام آباد تک کے مارچ، اور اس کے بعد کے دھرنے میں صرف کچھ ہزار لوگ ہی شامل ہوئے۔

دیکھا جائے تو اسلام آباد میں ایک مہینے سے جاری دھرنے کا ملک کے باقی حصے میں کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔ عمران خان کی ملک بھر میں احتجاج کی اپیلوں کو کوئی خاص رسپانس نہیں ملا، صرف کراچی اور لاہور کے پوش علاقوں میں کچھ پارٹی کارکنوں کے اجتماع ہوئے اور بس۔ سول نافرمانی، اور ٹیکسوں اور بلوں کی عدم ادائیگی بھی ایک مذاق بن کر رہ گیا۔ صرف پارٹی کے کچھ وفاداروں نے پشاور-اسلام آباد روڈ پر ٹول ٹیکس ادا کرنے سے انکار کیا، جبکہ کچھ اپر کلاس کے لوگوں کو ریسٹورینٹس کی انتظامیہ سے جی ایس ٹی کاٹنے پر جھگڑتے ہوئے دیکھا گیا۔

قومی اور صوبائی اسمبلیوں (خیبرپختونخواہ کے علاوہ) سے استعفے دینے کے فیصلے نے بھی نا صرف پارٹی کو اندرونی طور پر تقسیم کیا، بلکہ اس کی سیاسی تنہائی میں اضافہ کیا۔ اس وقت پارٹی کے ساتھ کوئی بھی اتحادی موجود نہیں ہے۔ اگر پارٹی پارلیمنٹ کے اندر رہتے ہوئے جدوجہد کرتی، تو اس کو اپنے مقاصد حاصل کرنے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوسکتی تھی۔ لیکن اس کے بجائے عمران خان نے پارلیمنٹ کو چوروں کا اڈہ قرار دے ڈالا۔

لیکن اس کے باوجود پارلیمنٹ نے منتخب حکومت کا ساتھ دینے میں بلوغت اور سمجھداری کا مظاہرہ کیا۔ اور تو اور پی ٹی آئی کے انتخابی اصلاحات کے مطالبے کی حمایت کر کے دوسری جماعتوں نے پی ٹی آئی کو بھی زندگی دینے کی کوشش کی۔ اور اگر اب تک پی ٹی آئی کے اسمبلیوں سے استعفے منظور نہیں ہوئے ہیں، تو یہ بھی اس لیے کہ اپوزیشن جماعتوں نے استعفے منظور کرنے کی مخالفت کی تھی۔ لیکن اب اس کو زیادہ عرصے تک ٹالا نہیں جا سکے گا۔ اسمبلیوں سے باہر بیٹھ کر انتخابی اصلاحات کی قانون سازی کرانا پی ٹی آئی کے لیے اور بھی مشکل ہوجائے گا۔

وزیر اعظم کے استعفے کے علاوہ پی ٹی آئی کے تمام مطالبات پر اتفاق رائے موجود ہے۔ پارٹی اس کے لیے کریڈٹ لے کر اپنی پوزیشن مضبوط کر سکتی تھی، لیکن وہ ایسا نہیں کر سکی۔ عمران خان موجودہ بساط لپیٹ کر جلد از جلد انتخابات چاہتے ہیں۔ وہ صرف انارکی کی حالت پیدا کرنا چاہتے ہیں، اور حکومت کے رٹ کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے ایسا کرنا مشکل بھی نہیں ہے۔

دار الحکومت کی ایک معطل شدہ انتظامیہ نے پہلے ہی مظاہرین کو فری ہینڈ دے رکھا ہے۔ اور عمران خان کی جانب سے اپنے گرفتار کارکنوں کو چھڑا لیا جانا اس بات کا ثبوت ہے۔ اس بڑھتے ہوئی سیاسی ہلچل اور طاقت کے خلا میں کسی غیر آئینی مداخلت کو راستہ مل سکتا ہے، اور شاید پی ٹی آئی چاہتی بھی یہی ہے۔ یہ ایک خطرناک کھیل ہے، جو مکمل تباہی پر بھی ختم ہوسکتا ہے۔ اس بحران کا حل جمہوریت میں موجود ہے، پھر اس میں بھلے ہی کتنی ہی خامیاں ہوں، پر اس بحران کا سسٹم سے باہر کوئی حل نہیں ہے۔

زاہد حسین