Friday, October 31, 2014

گلو بٹ جیل میں برتن دھوئیں گے.....


انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے جاری حکم کے مطابق سانحہ ماڈل ٹاؤن میں گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کرنے والے گلو بٹ جیل میں برتن دھوئیں گے۔
شاہد عزیز عرف گلو بٹ پر الزام ہے کہ 17 جون کو پیش آنے والے ماڈل ٹاؤن سانحے میں منہاج القرآن سیکریٹریٹ کے باہر جب پولیس پاکستانی عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری کے گھر کے باہر سے رکاوٹیں ہٹا رہی تھی اس وقت انہوں نے متعدد پرائیویٹ گاڑیوں کے ساتھ توڑ پھوڑ کی اور انہیں بھاری نقصان پہنچایا۔
اس موقع پر پولیس اہلکاروں نے نہ تو گلو بٹ کو روکا بلکہ وہ ان کی حوصلہ افزائی کرتے دکھائی دیے اور اس موقع پر کیمرے کی آنکھ نے یہ سب مناظر قید کر لیے۔
گلو بٹ کے خلاف فیصل ٹاؤن تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا اور جمعرات کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے گلو کو گیارہ برس قید اور ایک لاکھ جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
اس کے ساتھ ساتھ گلو کو جیل میں برتن دھونے کے ساتھ ساتھ تمام تر صفائی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

ناموں کا افشا اہم ہے یا کارروائی.....Corruption in India


بیرونی ممالک میں غیر قانونی بینک اکاؤنٹ رکھنے والوں کے بارے میں اسمبلی میں بحث ہو رہی تھی کہ جن کو چند روز قبل معافی دیدی گئی ہے لیکن ان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ ان کا تعلق دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں‘ کانگریس اور بی جے پی سے ہے۔ بصورت دیگر اسمبلی میں جو شور و غوغا ہو رہا تھا وہ اتنی جلدی بند نہ ہو جاتا۔ ایک اور قابل غور نکتہ یہ ہے کہ اکاؤنٹ ہولڈروں کے بارے میں ذرا سا اشارہ بھی نہیں دیا گیا کہ آخر انھوں نے اتنی بڑی رقوم کس طرح نہ صرف اکٹھی کیں بلکہ بیرون ملک بھی منتقل کر دیں اور ایسی باتوں کو روکنے کے لیے کسی اقدام کا بھی ذکر نہیں کیا گیا۔

بیرون ملک دولت جمع کرنا ایک جرم ہے۔ لہٰذا وہ سب لوگ مجرم ہیں جنہوں نے بیرونی ممالک میں دولت چھپا رکھی ہے تاہم یہ بات ناقابل فہم ہے کہ آخر حکومت ان کے نام ظاہر کرنے سے کیوں ہچکچا رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ کانگریس اور بی جے پی دونوں ہی قصور وار ہیں اور اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی نہیں چاہتیں کہ ان کی ساکھ خراب ہو لہٰذا دونوں پارٹیاں بہت کچھ چھپا رہی ہیں۔ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ سیاسی پارٹیاں انتخابات کے دوران کروڑوں روپے خرچ کرتی ہیں لہذا ان کے لیے اپنی غیر قانونی دولت چھپانے کے لیے بیرونی ممالک محفوظ جنت کا کام کرتے ہیں۔ اس طرح سے وہ نہ صرف لوگوں کی توجہ سے بچ جاتی ہیں بلکہ بہت بھاری مقدار میں ٹیکس بھی بچا لیتی ہیں۔

بھارت کے لوگوں کو البتہ جرمنی کا شکر گزار ہونا چاہیے جس نے ناموں کا افشا کر دیا ہے۔ جرمنی کے ایک بینک نے ناموں کی فہرست تیار کر کے بھارتی حکومت کے حوالے کر دی ہے۔ ہمارے ملک کی کوئی خفیہ ایجنسی اس فہرست کی فراہمی کا سہرا اپنے سر نہیں باندھ سکتی۔ لیکن جرمنی نے ان کے نام کیوں بھارت کو دیے ہیں اس کی مجھے سمجھ نہیں آئی۔ اگر اس حوالے سے بھارتی حکومت کا کوئی دباؤ تھا تو وہ یقیناً رنگ لے آیا ہے۔ جب یہ بات ظاہر ہوئی کہ بھارت کے کم از کم 800 افراد کی دولت بیرون ملک بینکوں میں پڑی ہے تو عوام مشتعل ہو گئے۔ یقیناً اور بھی بہت سے نام ہوں گے جو ابھی تک ظاہر نہیں ہو سکے۔ بیرون ملک رکھی گئی دولت کی مقدار چھ لاکھ کروڑ روپے سے متجاوز بیان کی گئی ہے۔

مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب میں لندن میں بھارت کا ہائی کمشنر تھا تو سرکاری خزانے کی پتلی حالت نے نئی دہلی حکومت کو بیرون ملک سفارتی نمایندوں کو خط لکھنے پر مجبور کیا کہ وہ کہ وہاں مقیم بھارتی شہریوں سے ملک کے لیے امداد طلب کریں۔ میں نے بھی بھارتی نژاد لوگوں سے بڑی درد مندانہ اپیل کی لیکن اس وقت مجھے بہت حیرت ہوئی جب جرمن سفیر نے مجھے بتایا کہ بھارتی نژاد لوگوں کے سوئس بینکوں میں اتنی بھاری رقوم موجود ہیں کہ وہ کئی پانچ سالہ منصوبوں کی مالی مدد کر سکتے ہیں۔

بحر حال اب حکومت کے پاس بیرون ملک دولت جمع کرنے والوں کے نام آ گئے ہیں بلکہ یہ نام تو کئی مہینے پہلے ہی موصول ہو گئے تھے جب ڈاکٹر من موہن سنگھ کی سربراہی میں کانگریس کی حکومت قائم تھی لیکن اس نے سیاسی وجوہات کی بنا پر کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ حتیٰ کہ وزیر اعظم نریندر مودی جنہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی حکومت کے پہلے سو دنوں کے اندر اندر ایسے تمام لوگوں کے خلاف ایکشن لیں گے لیکن اب جب کہ انھیں اقتدار میں آئے سات مہینے گزر چکے ہیں تو بمشکل ہی کوئی کارروائی شروع ہوئی ہے۔ من موہن سنگھ کی حکومت نے وہ نام آگے پہنچا دیے ہیں جو انھیں اپنی حکومت کے دوران موصول ہوئے تھے لیکن کانگریس کی حکومت نے ان کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی تھی کانگریس کے ترجمان نے اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کی۔ تکلیف دہ سوالوں کے کبھی جواب نہیں دیے جاتے۔ ناموں کا افشاء کرنا بھی اسی ضمن میں آتا ہے۔

مودی کی حکومت نے بھی مقدس گائیں موجود ہیں۔ اس حکومت نے کارپوریٹ سیکٹر کی بعض کمپنیوں کے نام لیے ہیں۔ جن تین کمپنیوں کے نام مودی حکومت نے ظاہر کیے ہیں غالباً یہ وہ کمپنیاں ہیں جن کو یہ حکومت نرغے میں نہیں لا سکی۔ مزید برآں صرف کارپوریٹ سیکٹر پر توجہ مرکوز کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اس طرح عوام کی توجہ سیاسی دنیا سے ہٹائی جا سکے۔ اس کوشش کا مقصد عوام کو یہ باور کرانا ہے کہ غیر قانونی دولت میں صرف کارپوریٹ سیکٹر ہی ملوث تھا۔ یہ بات درست بھی ہے کیونکہ انتخابات کے دوران جو ہزاروں کروڑ روپے کی رقم استعمال ہوتی ہے وہ کارپوریٹ سیکٹر سے ہی آتی ہے لیکن یہ ساری رقم کالے دھن میں ہی شمار ہوتی ہے جو ناجائز طریقے سے کمائی جاتی ہے اور یہ سارا سیاست دانوں کا کھیل ہے خواہ وہ اقتدار کے اندر ہوں یا اقتدار سے باہر ہوں۔ جب دولت بدعنوانی سے اکٹھی کی جا رہی ہوتی ہے تو وہ اپنا دھیان دوسری طرف کر لیتے ہیں۔

اور یہ بات کہ مودی ان مخصوص مفادات رکھنے والوں کے خلاف لڑائی کریں گے جنہوں نے سیاست کو آلودہ کر دیا ہے کیونکہ وہ اپنی ہر تقریر میں شفافیت پر بہت زور دیتے رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے وہ اپنا وعدہ پورا نہیں کر سکے۔ سوائے اس کے کہ انھوں نے کاروباری افراد اور بیوروکریٹس کو اپنی بدعنوان کارروائیوں میں پہلے سے زیادہ محتاط کر دیا ہے لیکن کرپشن کسی طور پر بھی کم نہیں ہوئی۔ اب بھی وقت ہے کہ مودی موصولہ ناموں کو نیٹ پر ڈال کر اپنی ساکھ بحال کر سکتے ہیں اور ان میں سے کن کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہیے اس کا فیصلہ ثبوت ملنے پر کیا جا سکتا ہے۔

ناموں کا افشاء کم از کم انھیں اس ذمے داری سے بچا سکتا ہے کہ وہ کرپشن کو عوام سے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کرپشن کی کوئی اکلوتی مثال نہیں ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق دیوالی کی آتشبازی پر 3000 کروڑ روپے کے لگ بھگ رقم خرچ کی گئی۔ دسہرے پر بھی کروڑوں کے حساب سے اخراجات ہوئے اور یہ سب علیحدہ علیحدہ اخراجات تھے۔

ایک ایسا ملک جس کی ایک تہائی آبادی رات کا کھانا کھائے بغیر سونے پر مجبور ہے اس میں بے حسی کی ایسی مثالیں قابل صد مذمت ہیں۔ میں نے سول سوسائٹی کے سرگرم کارکنوں کو اس ضمن میں سڑکوں پر کبھی احتجاج کرتے نہیں دیکھا۔ معاشرہ اس حوالے سے لاتعلق ہے کیونکہ جو آواز بلند کرنے والے اور رائے عامہ کو تشکیل دینے والے ہیں وہ خود اس کرپشن کا حصہ ہیں۔ وہ بھلا کوئی حل کیوں دینے لگے۔

کلدیپ نائر
بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس

زرعی آمدن پر انکم ٹیکس کی ضرورت......

Thursday, October 30, 2014

سمندرپار پاکستانی ورکرز اور ان کی مشکلات......


ترقی پذیر ممالک جیسے پاکستان میں پیدا ہونے والے افراد کی ایک بڑی اکثریت اپنے وطن میں کام نہیں کرتی اور ملازمتوں کے تعاقب میں وہ دیگر مقامات کا رخ کرتے ہیں اور وہاں سے رقوم بھیجتے ہیں جس سے ان کے وطن کی معیشت بھی فعال رہتی ہے۔
ترقی پذیر دنیا میں یہ شرح کتنی بڑی ہے اس کا انکشاف عالمی بینک کی ایک حالیہ رپورٹ میں ہوا ہے، جس کے تخمینے کے مطابق 2014 میں ترقی پذیر ممالک کو بھیجے جانے والی ترسیلات زر میں پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے، یہ ترسیلات زر 2014 میں 435 ارب ڈالرز اور 2015 میں 454 ارب ڈالرز تک پہنچ جانے کا امکان ہے۔

ممالک جیسے ہندوستان افرادی قوت کو برآمد کرنے والا اہم ملک ہے جس کے ایک کروڑ چالیس لاکھ کے لگ بھگ شہری بیرون ملک کام کررہے ہیں اور ہر سال 71 ارب ڈالرز کے قریب وطن واپس بھیج رہے ہیں، جہاں تک چھوٹے ممالک کی بات ہے جیسے نیپال، تاجکستان اور دیگر، ترسیلات زر ان نے مجموعی جی ڈی پی کا بالترتیب 42 اور 29 فیصد پر مشتمل ہے۔

پاکستان میں گزشتہ برس ترسیلات زر مجموعی طور پر سترہ ارب ڈالرز رہی، جو اضافے کی نشاندہی کرتی ہے، یہ ترسیلات زر ملک کے بہت اہم ہے اور معیشت کے لیے غیرملکی زرمبادلہ کا سب سے اہم ذریعہ ہے، عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق اس سے ملک کے ادائیگیوں کے توازن میں استحکام آیا ہے اور یہ اس کی درآمدات کے نصف کی نمائندگی کرتی ہے۔

پاکستان کی یہ افرادی قوت برآمد بیرون ملک جاکر رقوم بھیج کر ناصرف زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کررہی ہے بلکہ وہ ملک میں کسی قدرتی آفت کے بعد امداد کا بڑا حصہ بھیجنے کی ذمہ داری بھی پوری کرتی ہے۔
اگرچہ رواں برس کے سیلاب کا ڈیٹا دستیاب نہیں تاہم اگست 2010 کے سیلاب کے بعد اس سال میں ترسیلات زر میں انیس فیصد کا اضافہ دیکھا گیا، توقع کی جارہی ہے رواں برس کے سیلاب کے نتیجے میں ترسیلات میں 16.6 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔

یہ ڈیٹا اس امر کا اظہار بھی کرتا ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کے بارے میں دوبارہ سوچے جانے کی ضرورت ہے، رپورٹ کا ایک نمایاں نکتہ یہ ہے کہ ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری کے پرکشش ماڈل کو اپنایا نہیں جاتا، مگر یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی کے بگڑتے مسائل کو دیکھتے ہوئے اس شعبے کی ترقی کافی ناممکن سی لگتی ہے۔
دیگر ممالک جنھیں تنازعات اور عدم استحکام کا سامنا ہے پاکستان کے لیے اپنی معیشت کو توانائی سے بھرپور کرنے کے لیے ان مثبت نکات کو اجاگر کرنا ہوگا جو سامنے آچکے ہیں، افرادی قوت کی برآمد کا مطلب غربت میں تخفیف ہے، بیرون ملک میں رہ کر بھی پاکستانی ورکرز اپنے آبائی وطن سے مضبوط تعلق برقرار رکھتے ہیں، اعدادوشمار ثابگت کرتے ہیں کہ ملک میں معیشت اور سرمایہ کاری کی ترقی کے لیے سب سے قابل اعتبار ذریعہ ہے۔

عالمی سطح پر اعدادوشمار بھی اس بات پر دوبارہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ترقیاتی امداد جو ترقی پذیر ممالک جیسے پاکستان میں غربت میں کمی کے لیے دی جاتی ہے، درحقیقت ترقیاتی کی بجائے مخصوص منصوبوں کے لیے ہوتی ہے جو مقامی ضروریات اور حالات سے مطابقت نہیں رکھتے، غیرملکی ورکرز کی ترسیلات سے ایسے مستحکم ماڈل کو فروغ دیا جاسکتا ہے جس میں برادری کی سطح پر شمولیت نمایاں ہو۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے تعمیر کردہ اسکول اور ہسپتال وغیرہ ملک میں بیوروکریسی اور سیاسی طور پر حاصل کردہ اربوں کی ترقیاتی امداد کے مقابلے میں حقیقی تبدیلی کو فروغ دینے کے لیے زیادہ کامیاب ثابت ہوتے ہیں، جبکہ وہ امداد اسلام آباد اور مڈل مین کے چھوٹے گروپ کے درمیان پھنس کر رہ جاتی ہے۔

یہ تمام حقائق کتابی نہیں تاہم افرادی قوت کی برآمد کو فروغ دینے والی پالیسیوں کی تشکیل کی بجائے پاکستان کی سیاسی اور سماجی پالیسیوں میں اکثر ان غیرملکی ورکرز کو نظرانداز کردیا جاتا ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ امیر سیاستدانوں کے غیرملکی پاسپورٹس تک رسائی کا مسئلہ اکثر غریب ورکرز کو درپیش مسائل سے ٹکرا جاتا ہے جو کہ وطن میں روزگار نہ ملنے پر باہر جانے پر مجبور ہوجاتے ہیں، اس ٹکراﺅ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وطن میں ناکام سیاستدان پرجوش طریقے سے یہ بات پھیلانے لگتے ہیں کہ بیرون ملک کام کرنا کسی فرد میں حب الوطنی کی کمی کو ظاہر کرتا ہے،اس کے مقابلے میں ہندوستان کی حکمت عملی مختلف نظر آتی ہے یہاں تک کہ ان کا وزیراعظم جب بیرون ملک دورے پر جاتا ہے تو ہزاروں تارکین وطن سے بات چیت کو اپنی ترجیح بناتا ہے، تاہم ایسی محبت پاکستانی تارکین وطن ورکرز کو دستیاب نہیں۔

تعصب ایک اور پاکستانی غیرملکی ورکرز پر تھوپا ہوا بوجھ ہے، زیادہ تعصب ور تشدد اس وقت سامنے آتا ہے جب دیگر ممالک میں موجود پاکستانی سفارتخانوں میں انہیں ریاستی قونصلر کی خدمات میسر نہیں آتیں، کچھ برس قبل جب متعدد ممالک جن میں یو اے ای بھی شامل ہے، نے مشین ریڈایبل پاسپورٹس کی شرط عاءکی تو پاکستانی قونصل خانوں میں ایسی مشینیں نہیں رکھی گئیں، مختصر تعطیلات کے دوران اس کے سبب تارکین وطن کو اپنے گھر جانے کے لیے طویل انتظار کرنا پڑا یا گھر آکر پھنس گئے کیونکہ یہاں مشین ریڈایبل پاسپورٹ مقامی بیوروکریسی کے ذریعے ہی بنائے جارہے تھے۔

اگرچہ اب یہ پاسپورٹس بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں میں ایشو ہونے لگے ہیں مگر ایسا نظر آتا ہے کہ پاکستانی تارکین وطن اس بات پر حکومت کو قائل کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ کچھ سفارتخانوں میں پاسپورٹس کی تیاری کے وقت کو بہتر بنایا جائے تاکہ پاکستانیوں کو دستاویزات کے حصول کے زیادہ انتظار نہ کرنا پڑے، اگر ان ممالک کی حکومتیں آنے والے پاکستانی ورکرز کے ساتھ امتیاز اور خوش اخلاقی کا اپنے طور پر مظاہرہ کریں تو بھی حالات میں بمشکل ہی بہتری آسکے گی۔

پاسپورٹ پاکستانیوں کو نظرانداز کیے جانے کی روایات کا سب سے ناقابل برداشت رویہ ہے جس کا انہیں بیرون ملک کسی مشکل صورتحال میں اپنے سفارتخانوں کا رخ کرنے پر سامنا کرنا پڑتا ہے، پاکستان میں ان ورکرز کو نظرانداز کرنے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتاہ ے کہ کسی بھی ملک سے دوطرفہ تعلقات پر مذاکرات کے دوران یہ تارکین وطبن ایجنڈے کا حصہ ہی نہیں ہوتے۔
ترقیاتی امداد کے برعکس ترسیلات زر حکومت کی جیب میں نہیں جاتی اور انہیں اپنے رشتے داروں کے کاروبار کو بڑھانے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا، یہی وجہ ہے کہ ماضی کی اور آج کی انتظامیہ کی توجہ ترقیاتی امداد کے پیکجز کے حصول کی جانب زیادہ ہوتی ہے جو ان کی جیبوں میں جاتی ہے جبکہ وہ باہر جانے والے پاکستانیوں ورکرز کے لیے حالات بہتر بنانے پر زیادہ توجہ نہیں دیتے کیونکہ وہ اپنی رقومات خاندانوں اور برادریوں کو ارسال کرتے ہیں۔

افرادی قوت کی برآمد صرف پاکستان کا خاصہ نہیں، ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا ان ورکرز کی نقل مکانی کے حب ہیں، ملازمت کے لیے وطن سے دوری اختیار کرنا جذباتی طور پر کوئی بہتر مقصد نہیں بلکہ اسے خوش آمدید نہ کہا جائے تو یہ کوئی خوشگوار حقیقت نہیں، اس پر توجہ دینے سے ملک میں استحکام اور ترقی دونوں کو فروغ ملے گا، یہ وقت ہے کہ ثقافت، معاشرہ اور پالیسی ذرائع اس بات کی عکاسی کریں کہ لوگ جہاں سے بھی کمائیں مگر اس کا بڑا حصہ پاکستان کے اوپر اور اندر ہی خرچ کریں۔

رافعہ ذکریہ
Overseas Pakistani workers and their troubles