Thursday, May 28, 2015

Russia on the border

Men wearing military uniforms stand next to self-propelled howitzers and armored personnel carrier during a training session at the Kuzminsky military training ground near the Russian-Ukrainian border in Rostov region, Russia. The weapons being delivered to the region included Uragan multiple rocket launchers, tanks and self-propelled howitzers -- all weapon types that have been used in the conflict in eastern Ukraine between Kiev's forces and separatists.




 













Most valuable brands

Microsoft is valued at $116 billion, up 28%

IBM's brand is valued at $94 billion, down 13% since last year.

Visa is valued at $92 billion, up 16%.

AT&T is valued at $89 billion, up 15%.

Verizon is valued at $86 billion, up 36%.

Coca-Cola is valued at $84 billion, up 4%.

Facebook is valued at $71 billion, up 99%.
Amazon is valued at $62 billion, down 3%
UPS is valued at $52 billion, up 9%.
MasterCard is valued at $40 billion, up 2%.
Toyota is valued at $30 billion, down 2%.

اجتماعی قبروں کے پناہ گزین

بے زمین، بے شناخت، روہنگیا مسلمانوں کو جائے امان ملی بھی تو کب؟ زندگی سے محرومی کے بعد۔ کوئی جائے پناہ ملی بھی تو کہاں؟ سطح زمین پر نہیں۔ دھرتی کی آغوش میں، بہت گہرائی میں، اجتماعی قبروں کے اندر۔ ایسی حرماں نصیب کمیونٹی ۔ اولاد آدم کا ایسا سیہ بخت گروہ شاید روئے زمین پر اور کوئی نہیں ہوگا۔ جیسے یہ بے نوا، پناہ گزین جن کی زندگی مسلسل فرار کے سوا کچھ بھی نہیں۔ فرار یا یقینی موت۔ آپشن تو بس دو ہی ہیں۔

روہنگیا مسلمانوں کی داستان الم تو بہت پرانی ہے۔ 19ویں صدی سے آج تک، ہر دور میں، ہر حکومت کے زیر اثر۔ کوئی ایسا موسم، ایسی رت نہیں جب ان پر مقامی اکثریتی مذہبی گروپ نے تشدد اور ظلم کے کوہ گراں نہ توڑے ہوں۔ مہاتما بدھ کے صلح کل اور پرامن مذہب کے ماننے والے بدھ ایزا رسانی کے تمام جدید اور قدیم طریقوں سے واقف ہیں۔ بندوق، پستول، نیزے، بھالے اور خم دار تلواریں۔ کون سا ہتھیار ایسا ہے جس کے استعمال میں ان کو کمال حاصل نہ ہو۔ نشانہ بازی اور مشق کے لئے ٹارگٹ وافر مقدار میں دستیاب ہیں۔ یہ سطور لکھتے ہوئے سمجھ نہیں آتی کہ کہاں سے شروع کروں، کہاں پر ختم کروں۔ پھر آنگ سان سوچی کی یاد آتی ہے۔
کبھی جو خود بھی فوجی جنتا کی اسیر رہی۔ قید تنہائی کی اذیت ناکیوں کو جسم و جاں پر جھیلا۔ شوہر کی پرتشدد موت کا عذاب سہا۔ کبھی دھان، پان سوچی کی تصویر عزبراز جاں سرمایہ حیات سمجھ کر کتابوں، کاپیوں کی جلد پر چپکائے رکھی۔ تب سوچی کی آواز آمریت کے خلاف، ظلم کی نفی میں، سات براعظموں میں گونجتی تھی۔ اس کو امن کا عالمی نوبل انعام ملا تو یوں لگا کہ جدوجہد کو کچھ تو صلہ ملا۔ کچھ تو اشک شوئی ہوئی۔ ہم، سب وہ جن کی آنکھوں میں سبز اور سرخ انقلاب کے خواب سجے تھے۔ ان سب کے لئے۔ آنگ سان سوچی ایک تحرک، جذبہ توانا کا نام تھا۔ اب شائد حالات بدل گئے۔ بہت عرصہ دراز سے کبھی نہیں سنا کہ انسانی حقوق کی سپہ سالار نے کبھی صدائے احتجاج بلند کی ہو۔ کبھی کلمہ حق کہا ہو۔ وہ ہیروئن اب خاموش ہے۔

اس نے چپ کا روزہ رکھ لیا ہے۔ اس کی زبان جو ہر حال میں بولتی تھی۔ اس پر مصلحت کا تالا لگ گیا ہے۔ کبھی کسی تقریب میں کوئی رپورٹر ہمت کر کے سوال کر بیٹھے۔ آنگ سان سوچی جواب نہیں دیتی۔ مجبور ہو جائے تو گول مول جواب دے کر بات بدل دیتی ہے۔ اس کا ایک بیان صورت حال کو زیادہ نہ سہی تھوڑا بہت تبدیل کر سکتا ہے۔ لیکن وہ ایسا کیوں کرے؟ عام انتخابات اب زیادہ دور نہیں۔ ایک طویل عرصہ بعد اس کی جماعت کی کامیابی کے امکانات روشن تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی کیوں مارے۔ نوے فیصد اکثریتی ووٹروں کو کیوں ناراض کرے۔ اب ایسے مصلحت کوش، سابق انقلابی سے کیا امید رکھی جائے۔
تو پھر کیا برادر ہمسایہ ممالک سے کچھ امید؟ بالکل نہیں۔ انسانی حقوق کے لئے سرگرم، ایک تنظیم کے کارکن نے عجیب سی مثال دی۔ آپ کے ساتھ شیئر کرتا ہوں۔ شخص مذکورہ کہتا ہے کہ روہنگیا مسلمان، پنگ پانگ کی گیند کی مانند ہیں۔ بنگلہ دیش، برما، تھائی لینڈ، ملائیشیا، انڈونیشا اس انسانی گیند کے ساتھ ٹیبل ٹینس کا کھیل، کھیل رہے ہیں۔ وہ بھی گہرے سمندروں میں۔ جونہی خلیج بنگال اور اس سے ملحقہ سمندروں میں پناہ گزینوں کی کوئی کشتی ہمسایہ ممالک کے ساحلوں تک پہنچتی ہے۔ کوسٹ گارڈ ان کھچا کھچ بھری کشتیوں کو زور دار “Smash” لگاتی ہیں۔ پوائنٹ بھی مل جاتا ہے اور کشتی بھی کھلے سمندروں میں دھکیل دی جاتی ہے۔ کسی دوسرے ملک کی جانب سے زور دار شارٹ کھانے کیلئے۔

تیس ہزار روہنگیا پناہ گزین بے رحم، سمندر کی سفاک ڈالتی لہروں پر چپو والی عام سی کشتیوں پر سرگرداں ہیں۔ سو سے ڈیڑھ فٹ طویل ایک ایک کشتی میں، سیکڑوں پناہ کے متلاشی، بے خانماں، برباد، کوئی منزل، نہ نشان منزل۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل صاحب نے ایک مرتبہ ازراہ رحم دلی۔ ان کو دنیا کا سب سے زیادہ ’’ستم گزیدہ‘‘ نسلی گروہ قرار دیا۔ اس بیان کے بعد سے وہ بھی خاموش ہیں۔ شائد ان کی ذمہ داری اتنی ہی تھی۔ خطے کی سب سے بڑی تنظیم آسیان ہے۔ اس تنظیم کا کردار بھی خاموش تماشائی ہے۔ چند لاکھ، بے شناخت، انسانوں کی زندگی اور موت کا معاملہ آخر کتنا اہم ہے۔ جو اتنی بڑی تنظیم اپنا وقت ضائع کرے۔ او آئی سی تو ویسے ہی ہومیوپیتھک تنظیم ہے۔ اب یاد آتا ہے کہ شائد اس کے کسی عہدیدار نے میانمار کا دورہ کیا تھا۔ میانمار، جو روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کے لئے سفاک قاتلوں کا ’’ہوم گراؤنڈ‘‘ ہے۔

پاکستان، بنگالی نژاد جو برمی مسلمانوں کی سب سے بڑی پناہ گاہ رہا ہے۔ یہ پناہ گزین سمندری راستوں سے کراچی پہنچتے ہیں۔ ان میں سے کچھ معمولی رقم خرچ کر کے، آخرکار ’’شناخت‘‘ حاصل کر لیتے ہیں۔ باقی ماندہ کے شب و روز حیات اتنے ہی مشکل اور کٹھن ہوتے ہیں جتنے کسی بھی اجنبی سرزمین پر غیر قانونی شہری کے ہو سکتے ہیں۔ برمی فوجی سامراج سے آزادی کے بعد چند سال،برما جو آج میانمار بن چکا ہے۔ میں کوئی نسلی، مذہبی تفرقہ نہ تھا۔ 1962ء میں فوجی حکمران نے طول اقتدار کے لئے نسل پرستی کے بیج بوئے۔ دنیا کے بھوکے آمر نے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے یہی آزمودہ ہتھکنڈہ استعمال کرتے ہیں۔ اقتدار کو دوام کا سراب آج تک حقیقت نہیں بن سکا۔

جابر، آمر تو رخصت ہو جاتے ہیں۔ اپنے پیچھے نفرتوں کی زہریلی کھیتیاں چھوڑ جاتے ہیں۔ 1982ء میں فوجی حکومت نے ایک ایسا فیصلہ کیا جو عمرانی تاریخ کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔ ایک فیصلے کے تحت روہنگیا مسلمانوں کو حق شہریت سے محروم کر دیا گیا۔ اس روز سیاہ کے بعد اب ریاست کی نظر میں وہ غیر ملکی ہیں جو غیر قانونی طور پر میانمار کی سرزمین پر بستے ہیں۔ ان کا اصل ملک بنگلہ دیش ان کو پناہ دینے سے انکاری ہے۔ میانمار ان کا مقتل۔ دنیا بھر کے انسانی سمگلروں کے لئے وہ سونے چاندی کی کان ہیں۔ ان کو بھیڑ بکریوں کی طرح کشتیوں میں لاد کر تھائی لینڈ، فلپائن، ملائیشیا، انڈونیشیا کے کھلے سمندروں میں بے یارومددگار چھوڑ دیتے ہیں۔

صرف دو روز قبل انسانی لاشوں سے اٹی 30 اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں۔ لاشوں کا شمار تو محال ہے۔ لیکن یہ طے ہے کہ لاشیں روہنگیا پناہ گزینوں کی ہیں۔ بدھ قاتلوں، انسانی سمگلروں اور سیاحت کاری کے ہاتھوں پستے یہ مظلوم اب زیادہ تعداد میں باقی نہیں۔ عالمی برادری بھی شائد یہ سوچ کر خاموش ہے کہ باقی بچ جانے والے تعداد میں زیادہ نہیں۔ جلد یا بدیر سمندر برد ہو جائیں گے یا کسی اجتماعی قبر کے پناہ گزین۔ ان کے لئے سوچ بچار میں وقت کو کیا ضائع کرنا

طارق محمود چوہدری

بشکریہ روزنامہ نئی بات