Sunday, October 19, 2014

ہم کہاں جا رہے ہیں؟.....ایدھی یرغمال...Millions looted from Edhi center



Robbers struck the head office of the Edhi Foundation in the Mithadar area of Karachi where they held all the staff including renowned philanthropist Abdul Sattar Edhi hostage and made away with gold, foreign currency and other valuables worth millions of rupees.

Eight robbers stormed into the Edhi headquarters around 9:45am and broke into storage lockers that contained five kilograms of gold, foreign and local currency worth millions of rupees, according to Faisal Edhi who is the son of Abdul Sattar.

The robbers easily managed to escape from the site after an extended period of looting.

Abdul Sattar Edhi told Dawn that the looted valuables included deposits made by people.

"This [dacoity] has never happened before...I have been held up before, but was let go without being looted," Edhi said.

Sindh Chief Minister Syed Qaim Ali Shah took notice of the incident and ordered police to immediately arrest the culprits behind the incident.

A First Information Report (FIR) was registered against unknown persons at the Mithadar police station on the complaint of Faisal Edhi.

Comparing the latest tablets in the market

Infographic comparing the latest tablets in the market

بلاول زرداری کی بطور بھٹو ثانی رسمِ تاجِ پوشی......


سلطنتِ ذوالفقاریہ کے ولیِ عہد بلاول زرداری کی بطور بھٹو ثانی رسمِ تاجِ پوشی پر اس وقت تک کچھ نہ کچھ کہا جاتا رہےگا جب تک وہ دوسرا خطاب نہیں کر لیتے۔

بہت سوں کو رعایا سے ان کا پہلا باضابطہ خطاب بکھرا بکھرا سا لگ رہا تھا۔
کئیوں کا خیال ہے کہ فی الحال وہ ایسے نوآموز ڈاکٹر ہیں جسے اصل مرض کی تشخیص کے لیے وقت اور ضروری تجربہ درکار ہے لہذا ڈاکٹر بلاول نے اپنے نسخے میں ریاست و سماج کو لاحق بیماری کے لیے تمام لیب ٹیسٹ، اینٹی بائیوٹکس اور سیرپ ایک ساتھ لکھ دیے کہ مریض پر کوئی دوا تو اثر کرے گی۔
کچھ کا خیال ہے کہ ان کی تقریر لکھنے والوں نے انھیں بچہ جان کر سیاسی بجلی سے چلنے والی ڈاجم کار میں بٹھا دیا جو دیگر بچوں کے بمپروں سے ٹکرا رہی ہے اور سب کے سب بڑے ایکسائٹمنٹ میں چیخ رہے ہیں۔

کچھ پنڈتوں کا خیال ہے کہ بلاول بھٹو ثانی کو رسمِ تاج پوشی کے خطاب میں صرف بھٹو ازم آگے بڑھانے کا فوٹوسٹیٹ نعرہ نہیں لگانا چاہیے تھا بلکہ جس طرح ان کے نانا بھٹو اول نے بیسویں صدی کے عام پاکستانی نوجوانوں کی نبض محسوس کرتے ہوئے اپنے وقت کے حساب سے ایک نظریاتی راستہ متعارف کروایا اسی طرح بلاول بھٹو ثانی کو بھی اکیسویں صدی کے تقاضوں اور امنگوں کی بنیاد پر پرانے نظریے کو ایک نئی شکل و تشریح دینی چاہیے تھی۔

مگر ایسے عجلت پسند پنڈت بھول جاتے ہیں کہ بلاول کے نانا نے یونیورسٹی آف برکلے کیلی فورنیا سے سنہ 1948 فارغ التحصیل ہونے کے بعد 20 برس قانون اور سفارت کاری کے گر سیکھنے اور پاکستانی سٹیبلشمنٹ کی اپرنٹس شپ میں گذارے تب جا کے وہ اپنا راستہ الگ سے نکالنے کے قابل ہوئے۔
جبکہ بلاول بھٹو ثانی کی والدہ بھی آکسفورڈ سے گریجویشن کے فوراً بعد سیاست میں نہیں اتاری گئیں بلکہ سفارت کاری کا تجربہ حاصل کرنے، دنیا گھومنے اور ضیا الحق کی یونیورسٹی آف ڈکٹیٹر شپ میں ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں رسٹی کیٹ ہونے کے بعد ہی کچھ بنیں۔
 
یہ درست ہے کہ چونکہ زمانے کی رفتار پچھلے 40 برس میں انتہائی تیز ہوگئی ہے اس لیے بلاول بھٹو ثانی کو شاید اپنے نظریاتی پاؤں پر کھڑا ہونے کے ٹیے اتنا تربیتی وقت نہ مل پائے جتنا ان کے نانا اور والدہ کو ملا۔
ساتھ ہی ساتھ بلاول کو سیاسی بالغ ہونے کی راہ میں ایک ایسی مشکل بھی لاحق ہے جو ان کے نانا اور والدہ کو درپیش نہیں تھی۔
ذرا تصور کیجیےاگر پیپلز پارٹی ایک ایسے لمحے میں تشکیل ہوتی کہ سر شاہنواز بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو اس کے مشترکہ سربراہ ہوتے تو کیا پارٹی اتنی ہی موثر ہوتی جیسی کہ تاریخی طور پر ہوئی؟

خود بے نظیر بھٹو اور ان کی والدہ کی مشترکہ قیادت سیاسی حالات کے جبر کے باوجود بہت آگے تک نہ جا سکی اور ایک کو دوسرے کے حق میں دستبردار ہونا پڑا تب جا کے وہ بے نظیر سامنے آئی جسے آج سب جانتے اور مانتے ہیں۔
لیکن ایک گرم و سرد چشیدہ 62 برس کے والد اور پھوپھی کے سائے میں پیشہ ور خلیفوں، قصیدہ گر مشیروں اور کھڑ پینچ تقریر نویسوں میں گھرا 26 سالہ بلاول کرے بھی تو کیا کرے۔
اک اور انکل کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک انکل کے ساتھ گذرا تو میں نے دیکھا

(منیر نیازی صاحب مجھے معاف کردیجے گا)
سوائے اعتزاز احسن پیپلز پارٹی کے درباری کلچر میں شاید ہی کھل کے یہ بات کوئی کہہ سکے کہ اب اننگز مکمل طور پر نئی نسل کے حوالے کردو اور عین میچ کی شدت کے درمیان پویلین میں بیٹھ کر اشارے کرکے کھلاڑی کو کنفیوز کرنے کے بجائے لڑکے کی جبلی صلاحیت پر بھروسہ کرو۔ مگر موجودہ پارٹی قیادت اعتزاز احسنوں اور رضا ربانیوں کی بات صرف احتراماً ہی سنتی ہے۔
ہر ایک کو خوش رکھ کے آگے بڑھنے کی جاگیردارانہ سوچ اور ببانگِ دہل ڈنکے پر چوٹ لگانے کی انقلابی خواہش کو سیاسی جار میں ڈال کر ایک نیا آمیزہ بنانے کا تجربہ تو آئن سٹائن بھی نہ کر سکا۔

آج کے 18 سالہ نوجوان کے لیے پیپلز پارٹی کے شاندار ماضی اور قربانیوں کی تکراری کہانی میں بالکل اتنی ہی کشش ہے جیسے مسلم لیگ اگلے الیکشن میں اس بنیاد پر ووٹ مانگے کہ اس نے سنہ 1947 میں پاکستان بنایا تھا۔
یہ بات بلاول بھٹو ثانی کی سمجھ میں شاید آ رہی ہے مگر ان مجاوروں کو کون سمجھائے جن کا روٹی پانی ہی مزار سے وابستہ ہے۔

وسعت اللہ خان

اہرام مصر........Egyptian pyramids


اہرام مصر وقت کے فرعون (بادشاہ) خوفو کے لئے بنائے گئے یادگار مقامات ہیں، جن میں بادشاہوں کے لاشوں کو دفنا کر محفوظ رکھا گیا ہے۔ ان لاشوں کے ساتھ ہیرے جواہرات، مشروبات، لباس، برتن، آلہ، ہتھیار، جانور اور کبھی کبھی تو خادم غلام کو بھی ساتھ ہی دفنا دیا جاتا تھا۔یوں تو مصر میں 138 پیرامائڈز ہیں اور قاہرہ کے مضافاتی علاقے غزہ میں تین اہرام موجود ہیں لیکن صرف غزہ کا ’’عظیم اہرام‘‘ ہی قدیم دنیا کے سات عجوبوں میں سے ایک ہے۔ آیئے اس عظیم عجوبہ کے بارے میں جانتے ہیں۔ اہرام مصر کا سہہ جہتی نقشہ یہ اہرام 455 فٹ بلند ہے۔ 43 صدیوں تک یہ دنیا کی سب سے اونچی ساخت رہا لیکن پھر 19 ویں صدی میں ہی اس کی اونچائی کا ریکارڈ ٹوٹا۔

اس کا رقبہ 13 ایکڑ زمیں پر محیط ہے جو قریب 16 فٹ بال میدانوں جتنا بڑاہے۔ یہ 25 لاکھ چونے کے پتھر کے بڑے بلاکس سے تعمیر کیا گیا ہے جن میں سے ہر ایک کا وزن 25سے 80 ٹن کے درمیان ہے۔ عظیم پرامڈ کو اتنی عمدگی سے تعمیر کیا گیا ہے کہ موجودہ ٹیکنالوجی بھی ایسی شاہکار کی نقل تعمیر کرنے سے قاصر ہے۔ مصری فرعون خوفو کے وزیر ہیمون یا ہیمیونو نے اس اہرام کا نقشہ تیار کیا تھا، اس اہرام کی تعمیر کے وقت اونچائی (146۔5میٹر) 480۔6 فٹ تھی لیکن اس کی حالیہ اونچائی (138۔8 میٹر) 455۔4 فٹ ہے۔ اس اہرام کا وزن تقریباً 5 سے9 ملین ٹن ہے۔ اس کے وزن کے حساب سے اسے بنانے میں 20 سال کا عرصہ لگا اور ہر ایک دن میں 800 ٹن پتھر لگایا گیا۔ ہر ایک گھنٹے میں 12 سے 13 پتھر کے بلاکس لگائے گئے۔ اہرام کا اندرونی منظر مصر کے اس عظیم اہرام کو لے کر اکثر سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں کہ بغیر مشینوں کے، بغیر جدید آلات کے مصریوں نے کیسے اتنے وزنی پتھروں کو 455 فٹ کی بلندی تک پہنچایا اور اس عظیم منصوبے کو محض 20 سال میں مکمل کیا؟

جدید تحقیق بتاتی ہے کہ عظیم اہرام مصر کے چونا پتھر کے بلاکس کو 800 کلومیٹر دور سے لایا گیا ہے، مصری کاریگر ان چونا پتھروں کو پہلے پانی میں ڈبو کے رکھتے جس سے چونا پتھر ٹوٹ جاتا پھر اسے ہتھوڑوں سے تراشا جاتا اور کشتی کے ذریعے دریائے نیل سے اس مقام تک منتقل کر دیا جاتا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق 5۔5 ملین ٹن چونا پتھر، 8000 ٹن گرینائٹ اور 500000 ٹن مارٹر اہرام کی تعمیر میں استعمال ہوئے تھے۔تعمیر مکمل ہونے کے بعد سفید چمکدار پتھر سے اس کی ملمع کاری کی گئی۔ 1300 قبل مسیح میں آئے ایک زلزلے کی وجہ سے اس کی اوپر کی سطح کا سفید پتھر گر گیا جو کہ 1356ء میں سلطان الناصر ناصرالدین الحسن قاہرہ اٹھا کر لے گیا، جس سے ایک مسجد اور ایک چھوٹا قلعہ تعمیر کرایا گیا۔ 

آج بھی ان پتھروں کی باقیات اہرام میں موجود ہیں۔اہرام کی تعمیر کے لئے 100,000 محنتی کاریگروں اور مزدوروں کے 5 گروہ بنائے گیا۔ ہر گروہ 20,000 قابل اور محنتی افراد پر مشتمل تھا۔ دلچسپ معلومات ٭ـعظیم اہرام کا ایک پتھر – سادہ کمپیوٹر جیسا ہے۔ اگر اس کے کناروں کی لمبائی، اونچائی اور زاویہ کو ناپا جائے تو زمین سے متعلق مختلف چیزوں کے عین مطابق حساب کیا جا سکتی ہے۔ ٭:عظیم اہرام میں پتھروں کا استعمال اس طرح کیا گیا ہے کہ اس کے اندر کا درجہ حرارت ہمیشہ مستحکم اور زمین کے اوسط درجہ حرارت 20 ڈگری سیلسیس کے برابر رہتا ہے۔ ٭:اگر اس کے پتھروں کو 30 سینٹی میٹر موٹے ٹکڑوں میں کاٹ دیا جائے تو ان سے فرانس کے چاروں طرف ایک میٹر اونچی دیوار بن سکتی ہے۔ ٭:پیرامائڈز میں بنیاد کے چاروں کونے کے پتھروں میں بال اور ساکٹ بنائے گئے ہیں تاکہ گرمی کی حدت اور زلزلوں سے محفوظ رہے۔ 

٭:مصری لوگ اہرام کا استعمال طب، کیلنڈر، سنڈاھل اور سورج کی کلاس میں زمین کی رفتار اور روشنی کی رفتار کو جاننے کے لئے کرتے تھے۔ ٭:اہرام کو ریاضی کی جائے پیدائش بھی کہا جاتا ہے جس سے مستقبل کا حساب کیا جا سکتا ہے۔ غزہ کے عظیم اہرام غزہ کا سب سے بڑا اہرام 146 میٹر اونچا تھا۔ اوپر کا 10 میٹر اب گر چکا ہے۔ اس کی بنیاد تقریباً 54 یا 55 ہزار میٹر کی ہے۔ اندازہ ہے کہ 3200 سال قبل مسیح اسے بنایا گیا تھا۔ اس کے باوجود ہے کہ اس وقت کی مصریوں کے پاس ٹیکنالوجی صفر کے برابر تھی۔


Egyptian pyramids